وزیراعظم نے ہائی اسکول کی کلاسوں میں ہفتے پھر کیلئے پڑھائی معطل کردی

فرانس کے وزیراعظم نے ملک بھر میں بڑھتے مظاہروں کے بعد ہائی اسکول کی کلاسوں میں ہفتے بھر کیلیے پڑھائی معطل کردی۔ 

فرانس میں طلبہ نے منگل کو ملک گیر مظاہرے کیے، جن میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، دو ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران گرفتار افراد کی تعداد پانچ ہزار سے بھی بڑھ گئی ہے جن میں زیادہ تر کمسن ہیں۔

طلبہ تنظیم کی کال پر پیرس میں مرکزی مظاہرہ پرامن تھا تاہم کشیدگی بڑھتی گئی، والٹئیر بولیوارڈ سمیت مختلف علاقوں میں طلبہ نے اسٹورز اور دفاتر کے شیشے توڑ دیے۔

طلبہ دفاتر میں بھی گھس گئے جہاں توڑ پھوڑ کی گئی اور پولیس پر پیٹرول بم سے حملے کیے گئے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے پولیس نے اسٹن گرنیڈز اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے کئی طلبہ زخمی ہوئے، ایسے ہی مظاہرے کئی دیگر بڑے شہروں میں بھی کیے گئے ہیں، صرف پیر کو سوا چار سو تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرے اساتذہ کی کمی کیخلاف، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیادہ نشستوں کے حق میں اور ہنگامی طور پر مزید اسکول بنانے کے نام پر کیے جارہے ہیں۔