عوامی مقامات پر مصنوعی ذہانت والے چشموں پر عارضی پابندی کی تجویز

—فائل فوٹو 

ناروے کی حکومت نے رازداری کی خلاف ورزی کے پیشِ نظر عوامی مقامات پر مصنوعی ذہانت سے لیس چشموں کے استعمال پر عارضی طور پر پابندی کی تجویز پیش کر دی۔ 

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پابندی کا اطلاق تمام عوامی سیر و تفریح، خریداری و رہائشی مقامات پر ہو سکتا ہے۔

حکومت کے مطابق ایسے چشموں میں کیمرے اور آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہونے کے باعث لوگوں کی اجازت یا علم کے بغیر ان کی تصاویر، ویڈیوز اور آوازیں ریکارڈ کیے جانے کا خدشہ ہے۔ 

ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی نظم و نسق کے وزیر تورگیر میکائیلسن نے کہا ہے کہ مجھے تشویش ہے کہ نئی طاقت ور ٹیکنالوجی لوگوں کو لاعلمی میں ریکارڈ کرنے کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ مکمل پابندی مقصود نہیں، نجی استعمال اور ایسے مقامات جہاں دوسروں کی رضامندی کے بغیر ریکارڈنگ کا خطرہ نہ ہو، وہاں ان گلاسز کے استعمال کی اجازت برقرار رہے گی۔

ناروے کی حکومت جَلد پارلیمنٹ میں عارضی قانون پیش کرے گی اور ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دے گی جو جسم پر پہنے جانے والے کسی بھی قسم کے کیمرے، آواز کی ریکارڈنگ اور مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیکنالوجی کے بارے میں مستقل قومی قوانین کی تیاری میں سفارشات دے گا۔