عمر بڑھانے والی جین تھراپی کے انسانی تجربات شروع

— فائل فوٹو

جین تھراپی اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت نے انسانی عمر میں غیر معمولی اضافے کے امکانات کو پہلے سے کہیں زیادہ قریب کر دیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ایسی طبی تحقیقات جاری ہیں جن کا مقصد مستقبل میں انسانوں کو زیادہ طویل اور صحت مند زندگی فراہم کرنا ہے۔

2026ء کے وسط میں ہارورڈ کے محقق ڈیوڈ سنکلیئر کی جانب سے بنیاد رکھی گئی کمپنی لائف بائیو سائنسز نے جزوی خلیاتی ری پروگرامنگ پر مبنی تھراپی ER-100 کا پہلا انسانی کلینیکل ٹرائل شروع کیا ہے۔

اس طریقۂ علاج میں ڈاکٹروں کی جانب سے گلوکوما اور اعصابی نقصان کے شکار مریضوں کی آنکھوں میں ’یاماناکا فیکٹرز‘ پر مبنی جینز داخل کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد خلیوں کو مکمل طور پر اسٹیم سیلز میں تبدیل کیے بغیر ان کی حیاتیاتی عمر کو دوبارہ ترتیب دینا ہے۔

ابتدائی حفاظتی نتائج 2026ء کے آخر یا 2027ء کے اوائل تک سامنے آنے کی توقع ہے۔

ڈیوڈ سنکلیئر کا کہنا ہے کہ 150 سال کی عمر تک پہنچنے والا پہلا انسان شاید پہلے ہی دنیا میں موجود ہو جبکہ مستقبل میں انسانی عمر کو دگنا کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

2035ء تک ممکنہ طور پر لونگیویٹی اسکیپ ویلاسٹی کی امید

ہارورڈ کے ایک اور معروف جینیاتی ماہر جارج چرچ کا کہنا ہے کہ انسانیت شاید پہلے ہی ’لونگیویٹی اسکیپ ویلاسٹی‘ یعنی طویل عمری کی رفتارِ فرار کی اس سطح کے قریب پہنچ چکی ہے جہاں سائنس ہر گزرتے سال کے مقابلے میں ایک سال سے زیادہ صحت مند زندگی کا اضافہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر زیرِ تیاری جین تھراپیز کے انسانی تجربات کامیاب رہے تو 2035ء تک انسانیت اس مرحلے سے آگے نکل سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت بھی اس شعبے میں تحقیق کی رفتار تیز کر رہی ہے، جس کے ذریعے جینز کو جسم تک پہنچانے کے زیادہ محفوظ طریقے اور ری پروگرامنگ پروٹینز کے بہتر ورژن تیار کیے جا رہے ہیں۔

چوہوں پر تجربات میں نمایاں نتائج

جانوروں پر کیے جانے والے تجربات میں نتائج مزید نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

ایک کمپنی نے رپورٹ کیا ہے کہ ’سینولائٹک امیونو تھراپی‘ اور مریض کے مطابق تیار کردہ اسٹیم سیلز کے امتزاج سے عمر رسیدہ چوہوں کی عمر دگنی ہو گئی اور اس دوران ان کی صحت بھی بہتر رہی، دیگر تحقیقی ٹیموں نے ریپامائسن اور نئے مرکبات سمیت مختلف ادویات کے امتزاج سے چوہوں کی عمر میں 30 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔

ایبری ڈی گرے کے تحقیقی گروپ نے بھی ظاہر کیا ہے کہ عمر رسیدگی کے خلاف متعدد مختلف طریقہ علاج کو یکجا کرنے سے کسی ایک علاج کے مقابلے میں بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

نئی ادویات اور عام استعمال کی دوائیں بھی تحقیق کا حصہ

مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ایک دوا نے ایک محدود انسانی آزمائش میں حیاتیاتی عمر سے متعلق بعض اشاریوں میں 3 سے 6 سال تک کمی کی۔

اسی طرح وزن کم کرنے کے لیے مقبول ادویات کے بارے میں بھی ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ وہ عمر رسیدگی کے حیاتیاتی پیمانوں کی رفتار سست کر سکتی ہیں اور چوہوں کی عمر بڑھا سکتی ہیں، تاہم محققین خبردار کرتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں لافانی زندگی کا حصول اب بھی بہت دور ہے۔

لافانی زندگی کے حصول میں حادثات، نئی بیماریاں اور حیاتیات کی بنیادی حدود اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں، جن میں تقسیم نہ ہونے والے خلیوں میں ڈی این اے کی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔

اس کے باوجود 2025ء اور 2026ء کے دوران ہونے والی تیز رفتار پیش رفت نے بہت سے ماہرین کو اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ انسانی عمر میں غیر معمولی توسیع کا تصور اب محض سائنس فکشن تک محدود نہیں رہا۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔