ہالی ووڈ اداکار اور سابق ڈبلیو ڈبلیو ای ریسلر جان سینا نے انکشاف کیا ہے کہ کیریئر کے ابتدائی دور میں اداکاری کو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے میرا فلمی کیریئر تقریباً ختم ہو گیا تھا۔
جان سینا گزشتہ 20 برس سے فلموں میں کام کر رہے ہیں، وہ ڈبلیو ڈبلیو ای کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے بعد 2006ء میں فلم ’دی میرین‘ سے بڑے پردے پر نظر آئے تھے۔
ایک موقع پر جان سینا نے بتایا کہ اداکاری کے ابتدائی دور میں میری توجہ فلموں کے بجائے ریسلنگ پر تھی اور میں اپنا زیادہ وقت ریسلنگ رنگ میں گزارنا چاہتا تھا۔
اپنی نئی فلم ’میچ باکس: دی مووی‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جان سینا نے اپنے اداکاری کے سفر کو طویل ترین قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی فلمی منصوبوں میں سچ کہوں تو میرا دل پوری طرح نہیں لگتا تھا۔
جان سینا نے بتایا کہ مجھے دنیا بھر کا سفر کرنے اور ریسلنگ کے بڑے مقابلوں میں ہزاروں شائقین کے سامنے پرفارم کرنے میں بہت مزہ آتا تھا، کیونکہ میں خود کو وہاں زیادہ پُرسکون محسوس کرتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ فلموں کے سیٹ کا ماحول ریسلنگ سے بالکل مختلف تھا، فلم کی شوٹنگ کے دوران کام کی رفتار سست محسوس ہوتی تھی اور مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ ہر کام میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے۔
جان سینا نے ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ مجھے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت تھی، مجھے اس لیے فلمی دنیا سے باہر کر دیا گیا کیونکہ میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہ بالکل جائز تھا۔
اداکار کا کہنا ہے کہ اب میں فلمیں بنانے کے عمل سے بھرپور لطف اندوز ہوتا ہوں اور فلم کی تیاری میں شامل ہر شخص کی محنت اور کردار کی قدر کرتا ہوں، اب میں اپنے کام کے حوالے سے بہت زیادہ پُرجوش ہوں۔
جان سینا نے کہا ہے کہ تقریباً 20 برس بعد مجھے بطور اداکار مزید سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک اور موقع ملنا خوش قسمتی ہے۔