برطانیہ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی فراہمی میں کسی بڑے بحران یا رکاوٹ کی صورت میں حکومت اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں، جبکہ ملک کا غذائی نظام موسمیاتی تبدیلی، سائبر حملوں اور دیگر خطرات کی زد میں ہے۔
خیراتی ادارے فوڈ رائز نے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے نام ایک کھلا خط ارسال کیا ہے، جس پر 180 سے زائد ماہرینِ تعلیم، کسانوں اور خوراک کے شعبے سے وابستہ کمیونٹی رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ قومی سلامتی کے معاملے کے طور پر خوراک کی اہمیت کو خاطر خواہ سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بڑے بحران کی صورت میں عوام کو خوراک فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا فرد کے پاس واضح طور پر موجود نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ کی خوراک کی فراہمی موسمیاتی تبدیلی، سائبر حملوں اور سافٹ ویئر کی خرابیوں جیسے خطرات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ غذائی نظام کو انتہائی ضیاع کا شکار اور ماحول کے لیے غیر پائیدار قرار دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فوڈ رائز نے محکمہ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور کی جانب سے جنوری میں جاری کیے گئے قومی سلامتی کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے پاس اتنی زمین نہیں کہ وہ اپنی پوری آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مویشی بھی پال سکے۔