بھارت کی عدالتِ عظمیٰ نے چیک باؤنس کے مقدمے میں بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کی عدم تعمیل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بقایا رقم میں سے 2 کروڑ روپے جمع کروانے کی حتمی مہلت دی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بینچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ ہم اداکار کی درخواست کو خارج کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ جیل میں ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ متاثرہ فریق کو ان کے پیسے واپس ملیں۔
عدالت میں راجپال یادو کے وکیل نے 50، 50 لاکھ کے چار ڈیمانڈ ڈرافٹس کی فوٹو کاپی پیش کی جس پر مدعی فریق کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ اداکار اداکاری میں ماہر ہیں اور فوٹو کاپیاں دھوکہ بھی ہوسکتی ہیں۔
راجپال یادو نے 2010 میں اپنی فلم ’اَتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے 5 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا جسے 8 کروڑ روپے کی صورت میں واپس کرنا تھا لیکن وہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہے۔
دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی وعدہ خلافی پر اداکار کو 3 ماہ قید کی سزا سنا چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اداکار کو پاسپورٹ جمع نہ کروانے اور عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی پر نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔