بالی ووڈ اداکار سنجے دت کے حالیہ بیان پر شیکھر سمن نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سنجے کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔
سنجے دیت نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انہیں بھارت میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سنجے دت، گاندھی جینتی کے خصوصی پروگرام کے لیے شیکھر سمن کے شو شیکھر ٹونائٹ میں شریک ہوئے۔
شیکھر نے سنجے کے دفاع میں کہا کہ ان کے تبصرے نہ تو بدنیتی پر مبنی تھے اور نہ ہی ملک مخالف، سنجے کو بھارت اور اس کے عوام سے ہمیشہ گہری محبت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنجے دت ملک اور ہم وطنوں کے لیے بے حد احترام رکھتے ہیں، انہوں نے جو کچھ کہا وہ بالکل بے ضرر اور مثبت انداز میں کہا تھا۔ انہیں ایسی بات کے لیے سزا یا بدنام نہیں کیا جانا چاہیے جو انہوں نے نہ کہی اور نہ ہی جس کا ان کا مطلب تھا۔ میں انہیں کئی سالوں سے جانتا ہوں۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں، اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔
شیکھر نے اپنے پروگرام کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی اور اسے ایک طنزو مزاح پر مبنی پروگرام ہے جو عوام کے حق میں، مکمل طور پر غیر جانب دار اور جمہوری ہے، پروگرام کا مقصد ہلکے پھلکے انداز میں سماجی معاملات پر تبصرہ کرنا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت میں امن اور اس کے عوام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنجے دت نے امن کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ حالات میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا اس ملک کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ یہاں امن ہونا چاہیے۔ اب مجھے اپنے ملک میں وہ امن محسوس نہیں ہوتا۔ ہم بھارتی بڑے دل والے اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ ہم نے بہت کچھ دیا ہے اور ہمیں ہمیشہ ایسا ہی رہنا چاہیے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد واپس آئیں۔
بعدازاں سنجے نے سوشل میڈیا پر ردعمل سامنے آنے کے بعد اپنے ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ان کا مقصد کبھی بھی کسی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا یا بے عزتی کرنا نہیں تھا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد کبھی بھی کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا یہ گفتگو پہلے سے اسکرپٹ کا حصہ تھی اور اسے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے مشہور کردار منا بھائی میں دکھائے گئے طنز ومزاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس گفتگو کا مقصد بھی محبت، گرمجوشی، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام دینا تھا۔
پروگرام کے دوران انہوں نے ایک طنزیہ حصے میں دوبارہ اپنے مشہور منا بھائی کے کردار کا انداز اپنایا اور تصور کیا کہ اگر وہ پانچ منٹ کے لیے بھارت کے وزیرِاعظم بن جائیں تو کیا کریں گے۔ اس دوران انہوں نے مہاتما گاندھی کے مشہور تین بندروں کا ذکر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ آج ایک چوتھے بندر کی بھی ضرورت ہے۔
ان کا سوال تھا کہ اگر لوگ برائی کو دیکھنے سے ہی انکار کر دیں تو پھر غلط چیزوں کو درست کون کرے گا؟ جہاں تک کام تعلق ہے تو سنجے دت کو آخری بار مئی میں ریلیز سیاسی ڈرامہ فلم آخری سوال میں دیکھا گیا تھا۔