آسٹریلیا کے محققین نے 24 مختلف سائنسی تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ دیر سے کافی پینے کی معمولی عادت انسان کی رات کی نیند کو کتنا شدید متاثر کرتی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اہم طبی تحقیق مشہور عالمی جرنل ’سلیپ میڈیسن ریویوز‘ میں شائع ہوئی۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 107 ملی گرام کیفین (ایک عام کپ کافی) کا اثر جسم سے ختم ہونے کے لیے کم از کم 8.8 سے 9 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ رات 10 بجے سوتے ہیں تو آپ کو دوپہر 1 بجے کے بعد کافی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
جم میں توانائی کے لیے استعمال ہونے والے کیفین والے ’پری ورک آؤٹ‘ سپلیمنٹس میں کیفین کی مقدار زیادہ (150 سے 300 ملی گرام) ہوتی ہے، جس کے لیے کٹ آف ٹائم 13.2 گھنٹے تجویز کیا گیا ہے۔
اس مقررہ کردہ حد کے بعد کافی پینے سے مجموعی طور پر نیند میں اوسطاً 45 منٹ کی کمی واقع ہوتی ہے، جبکہ گہری نیند تقریباً 12 منٹ کم ہو جاتی ہے جو جسمانی مدافعت اور دل کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
کیفین جسم میں ’ایڈینوسین‘ نامی قدرتی کیمیکل کو روکتی ہے جو دن بھر بنتا ہے اور انسان کو نیند کا احساس دلاتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ صبح بیدار ہونے کے بعد کافی کا پہلا کپ کم از کم 90 منٹ بعد پینا چاہیے، کیونکہ بیدار ہوتے ہی جسم میں تناؤ کا ہارمون ’کورٹیسول‘ عروج پر ہوتا ہے اور فوراً کافی پینے سے اضطراب اور اینزائٹی بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرین ٹی ایک بہترین متبادل ہے جس میں کیفین کی مقدار کم ہوتی ہے اور اس میں موجود ’ایل-تھینائن‘ امینو ایسڈ ذہن کو سکون اور توجہ فراہم کرتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔