برطانیہ کی گرین پارٹی نے صہیونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے اس کی باضابطہ مذمت کی ہے جس پر اسرائیل اور برطانوی یہودی تنظیموں نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی گرین پارٹی نے صہیونیت کو ایک نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبہ قرار دیا ہے اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت مکمل طور پر ختم کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔
یہ قرارداد 1022 ووٹوں کے مقابلے میں 813 ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے قرارداد کو جائز سیاسی بحث کی حدود سے باہر قرار دیتے ہوئے برطانیہ کی دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اس کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزارت نے الزام عائد کیا ہے کہ گرین پارٹی نے دہشت گردی کو جواز فراہم کیا ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینے کے بیان کو ’شرم ناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ یہودیوں اور اسرائیلیوں کو دنیا بھر میں خطرے میں ڈالتا ہے، اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے بھی گرین پارٹی کے مؤقف پر تنقید کی ہے۔
برطانیہ کی ترقی پسند یہودی تحریک نے الزام عائد کیا ہے کہ گرین پارٹی نے یہود دشمنی کو اپنی جماعتی پالیسی بنا لیا ہے، بعض یہودیوں کی قرارداد کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اس مؤقف کو دوسروں کے خلاف امتیازی سلوک کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
گرین پارٹی نے قرارداد کے ساتھ فلسطین کی آزادی، فلسطینیوں کے حقوق کی واپسی، اسرائیل کے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں کی حمایت، اسرائیل پر مکمل اسلحے پر پابندی اور فلسطین میں ایک واحد جمہوری ریاست کے قیام کے مطالبے کی بھی تجدید کی ہے۔
گرین پارٹی کے شریک نائب سربراہ موتھن علی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے دوران ہونے والی بھاری جانی نقصان اور جاری حملے اس ووٹ کے پس منظر میں اہم عوامل تھے۔
پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، گرین پارٹی کے برطانوی پارلیمنٹ کے 650 رکنی ایوان میں اس وقت 5 ارکان ہیں۔
قرارداد کی منظوری کے بعد پولانسکی سمیت دیگر گرین پارٹی ارکان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نسل کشی، نسلی صفایا، نسل پرستی پر مبنی نظام اور غیر قانونی قبضے کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے جرائم کی مذمت جاری رکھیں گے۔