شہد کو صدیوں سے قدرت کا انعام سمجھا جاتا ہے، قدیم مصری مٹی کے برتنوں میں شہد کی مکھیاں پالتے تھے، جبکہ قرون وسطیٰ کے مذہبی پیشوا درختوں میں چھتے تراش کر بناتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض مذہبی کتابوں میں بھی شہد کی مٹھاس اور خوبی کی تعریف کی گئی ہے۔
عہد حاضر میں بھی شہد کی مقبولیت ویسی ہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں اس کا استعمال ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے، کیونکہ لوگ اسے بہتر اور زیادہ قدرتی متبادل سمجھتے ہوئے ریفائنڈ چینی کی جگہ شہد کو ترجیح دے رہے ہیں، لیکن یہ کافی مہنگا بھی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق شہد نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے، بڑھاپے کے اثرات کو سست کرنے اور عام بیماریوں کی علامات میں کمی لانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد وزن کو قابو میں رکھنے میں کردار ادا کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ کینسر کے خلاف بھی ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بات سمجھنا چاہیے کہ شہد ایک میٹھی قدرتی چیز ہے جو شہد کی مکھیاں تیار کرتی ہیں۔ وہ پھولوں سے رس جمع کرتی ہیں، اسے مختلف شکروں میں تبدیل کرتی ہیں اور پھر اسے اپنے چھتوں میں خوراک کے طور پر محفوظ کرتی ہیں۔
دکانوں میں فروخت ہونے والا شہد بھی بنیادی طور پر یہی چیز ہے، لیکن اسے ایسے خصوصی چھتوں میں تیار کیا جاتا ہے جو شہد پالنے والوں کو باقاعدگی سے شہد حاصل کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ اس کے بعد شہد کو عموماً فلٹر اور پراسیس کرکے جار یا بوتلوں میں پیک کیا جاتا ہے۔
شہد تقریباً مکمل طور پر شکر پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں بنیادی طور پر فرکٹوز اور گلوکوز شامل ہوتے ہیں۔ یہ ہاضمے کے دوران تیزی سے جذب ہو جاتے ہیں۔ صرف 20 گرام، یعنی تقریباً ایک کھانے کا چمچ شہد میں تقریباً 61 کیلوریز ہوتی ہے، اس لیے اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ شہد وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے اور موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
امریکی ماہر غذایت بیتھ چیرونی نے کا کہنا ہے کہ شہد کو قدرتی ہونے کے باوجود مائع شکر ہی سمجھنا چاہیے۔ دوسری اقسام کی شکر کی طرح اسے بھی اعتدال میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
امریکی صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق روزانہ 2,000 کیلوریز والی غذا میں اضافی شکر کی مقدار 50 گرام تک محدود ہونی چاہیے، جو تقریباً تین کھانے کے چمچ شہد سے کچھ کم بنتی ہے۔ برطانیہ میں بالغ افراد کے لیے یہ حد اس سے بھی کم یعنی 30 گرام روزانہ ہے۔
اگر شہد کو غیر متوازن یا غیر صحت بخش غذا کے حصے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ صرف اضافی کیلوریز فراہم کرے گا۔ تاہم بیتھ چیرونی کے مطابق عام چینی کے برعکس شہد میں کچھ مخصوص اور منفرد صحت بخش فوائد بھی موجود ہیں۔ ریفائنڈ چینی کے برعکس شہد میں وٹامنز، معدنیات اور دیگر مفید مرکبات کی معمولی مقدار بھی پائی جاتی ہے۔
یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتا ہے، جن میں پولی فینولز اور فلیوونائڈز شامل ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس فری ریڈیکلز کو بے اثر کرنے میں مدد دیتی ہے۔ آزاد ریڈیکلز ایسے غیر مستحکم سالمات ہیں جو خلیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
ایک کھانے کے چمچ شہد میں تقریباً 17 گرام کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں، جو ریفائنڈ چینی کے مقابلے میں بعض افراد کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرا ہوا محسوس کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس بات کے بھی شواہد ہیں کہ شہد آنتوں کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق شہد میں اولیگوسیکرائیڈز پائے جاتے ہیں، جو ایسی شکر ہے جنہیں انسانی جسم کے انزائمز مکمل طور پر توڑ نہیں سکتے۔ اس کے بجائے یہ نظامِ ہاضمہ سے گزر کر آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے لیے خوراک کا کام کرتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔