اسرائیلی سیاستدان اور مصنف کے مکہ، مدینہ اور کوہِ سینا پر قبضے سے متعلق بیان نے عالمی سطح پر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اسرائیلی مصنف ایوی لپکن کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں وہ اسرائیل کی سرحدیں لبنان سے سعودی عرب تک اور بحیرۂ روم سے دریائے فرات تک پھیلنے کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ انٹرویو 2024 میں سامنے آیا تھا لیکن اُس کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر اب وائرل ہو رہا ہے، ویڈیو میں بیان کیے گئے مبینہ علاقائی تصور پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ویڈیو میں ایوی لپکن دریائے فرات کے دوسری جانب موجود کردوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کا دوست قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پیچھے بحیرۂ روم اور سامنے کرد ہوں گے، جبکہ لبنان کو اسرائیل کے تحفظ کی ضرورت ہوگی۔
لپکن ویڈیو میں مکہ، مدینہ اور کوہِ سینا کا بھی ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان علاقوں کو بھی اسرائیل کے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی جائے گی۔
’گریٹر اسرائیل‘ کی اصطلاح عام طور پر اسرائیلی ریاست کی موجودہ سرحدوں سے کہیں وسیع علاقے کے تصور کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ مختلف حلقے اس اصطلاح کی مختلف تشریحات کرتے ہیں۔