امریکا نے ایران کے قریب مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی طاقت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے جنگ میں ممکنہ اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران جنگ بہت جلد ختم یا کسی نہ کسی طرح جیت لی جائے گی۔
عرب میڈیا پر شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب صدر ٹرمپ ایران جنگ جَلد سے جَلد ختم کرنے اور جیتنے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب صدر ٹرمپ کے فیصلوں سے ایسا محسوس ہو رہا جیسے کہ وہ خطے میں جنگ طویل مدت تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ متعدد بار اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکا نے ایران میں طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب جنگ ختم ہونے والی ہے جبکہ اس بیان کے کچھ دنوں بعد ہی امریکی فوج کی گلف ممالک میں تعداد بڑھانے کا فیصلہ سامنے آ جاتا ہے۔
امریکی حکام کے تازہ بیان کے مطابق نومبر کے اختتام تک ایران کے قریب 3 طیارہ بردار بحری جہاز اور 2 بحری دستے تعینات ہوں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کی خطے میں نئی تعیناتیوں کے نتیجے میں 9,000 سے 10,000 مزید امریکی فوجی، بحری اہلکار اور میرینز خطے میں پہنچ سکتی ہیں، ان میں ایف-35 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، نئی تعیناتی کے بعد خطے میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 50,000 تک پہنچ جائے گی۔
تازہ فوجی تعیناتی سے یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوری طور پر جنگ میں شدت لانے جا رہے ہیں یا اس طاقت کے مظاہرے کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں کہا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بمباری بڑھانا ممکن ہے۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ نئی فوجی طاقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی کی صورت میں مزید آپشنز فراہم کرے گی۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ اگر صدر حکم دیں تو امریکی افواج کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ معاشی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے اور رواں ہفتے ایران کے ریلوے اور گاڑیوں کے شعبوں سے منسلک اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ امن مذاکرات بھی جاری ہیں تاہم اب تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ بیچنے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لیے نیویارک آیا تھا۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ محاذ آرائی بہت جَلد ختم ہوسکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو امریکا کے ساتھ ایک مناسب اور سمجھدار معاہدہ کرنا ہوگا بصورت دیگر اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔