امریکا، کارنیل یونیورسٹی کے دہرے معیار پر سوال اٹھنے لگے

امریکا کی کارنیل یونیورسٹی میں دہرے معیار پر سوال اٹھنے لگے ہیں کہ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے طلبہ اور فلسطین کے حامی طلبہ کے ساتھ مختلف رویہ کیوں اختیار کیا گیا؟

2024ء میں ایک 20 سالہ طالبہ نے 7 طلبہ پر اجتماعی زیادتی کا الزام لگایا۔ ناقدین کے مطابق یونیورسٹی نے بعض ملزمان کو صرف مضمون لکھنے اور ورکشاپ میں شرکت جیسی سزائیں دیں۔ البتہ کارنیل یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ بعض طلبہ معطل اور بعض یونیورسٹی سے نکالے بھی گئے۔

اسی دوران غزہ کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سخت تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطین کے حامی طالب علم مومودو تال کو دو مرتبہ معطل کیا گیا۔

دوسری معطلی پر ان کے ایف 1 ویزا اور امریکا میں قیام کو خطرہ لاحق ہوگیا، 4 دیگر طلبہ کو 3 سال کے لیے کیمپس سے باہر کردیا گیا۔