امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 10 لاکھ امریکیوں کو 500 ڈالر کے ریفنڈ چیک ڈاک کے ذریعے بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ یہ رقم ان لوگوں کو مل رہی ہے جنہوں نے اوباما کیئر کی پالیسی لی تھی مگر انہیں وفاقی سبسڈی نہیں ملی۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین نے 500 ڈالرز چیک کی تقسیم کے وقت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نومبر کے مڈ ٹرم الیکشنز سے پہلے اس رقم کی تقسیم سیاسی رشوت ہے۔ ان چیکس کے ساتھ صدر ٹرمپ کا خط بھی منسلک ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے آپ سے زیادہ پیسے لیے تھے۔ اب وہ پیسے آپ کو واپس دیے جارہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ریفنڈ انشورنس کمپنیوں کی جمع شدہ فیس سے دیا جا رہا ہے جو پہلے استعمال نہیں ہوئی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ چیک وسط مدتی انتخابات سے صرف ایک مہینہ پہلے بانٹے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے پچھلے ماہ یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر مڈٹرم الیکشنز میں ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے، تو وہ ہر بالغ امریکی کو پانچ ہزار ڈالر دیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس وعدے کا وقت پورا ہونے سے پہلے یہ 500 ڈالر والے چیکس انفرادی سطح پر ووٹر کی جیب کو کچھ راحت دیں گے اور انتہائی سخت مقابلوں والی نشستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔