چینجنگ روم سے نکلنے سے پہلے پروٹین شیک پینا، دوڑ سے پہلے کیلے کھانا، ورزش کے دوران انرجی جیل استعمال کرنا اور ورزش کے بعد زیادہ پروٹین والا کھانا کھانا، یہ ان چند اصولوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ورزش سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب ضروری ہیں۔
لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شاید یہ مشورہ مکمل طور پر درست نہیں۔اس حوالے سے برمنگھم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے حال ہی میں دریافت کیا کہ ورزش کے لیے لوگوں کو درکار کاربوہائیڈریٹس کی مقدار میں بہت زیادہ فرق ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے صرف ایک کیلے کے برابر کاربوہائیڈریٹس کافی ہوتے ہیں، جبکہ دیگر کو ورزش کے دوران دلیے کا ایک بڑا پیالہ کھانے سے پیٹ پھولنے، مروڑ اور اسہال جیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس دوران گزشتہ سال شائع ہونے والے ایک بڑے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ورزش سے پہلے یا بعد میں پروٹین لینے والے افراد کے پٹھوں کی مجموعی مقدار میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔
جب اس حوالے سے ماہرین سے پوچھا گیا کہ جم جانے سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد آپ کو کیا کھانا چاہیے تو معروف ماہر صحت اسٹیو بینیٹ نے کہا سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ ورزش کے دوران استعمال ہونیوالی کیلوریز کی مقدار کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا ضروری نہیں کہ ورزش سے پہلے آپ کو کچھ کھانا ہی پڑے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کچھ کھانے کی ضرورت ہے تو اسے سادہ رکھیں۔ ایک ابلا ہوا انڈا یا مٹھی بھر گری دار میوے آپ کو کچھ پروٹین اور چکنائی فراہم کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ آپ کے جسم میں بہت زیادہ شکر داخل ہو۔
انکا کہنا تھا کہ خالی پیٹ ورزش کرنے کے کچھ اضافی فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔ جب خون میں شکر اور انسولین کی سطح نسبتاً کم ہوتی ہے تو جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ چربی پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ورزش سے فوراً پہلے انرجی بار کھانے سے جسم کو کاربوہائیڈریٹس کا فوری دستیاب ذریعہ مل جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ورزش کے لیے جسم چربی کے ذخائر پر کم انحصار کرے۔
اسٹیو نے ایسے لوگوں کے لیےکافی تجویز کی جو کیفین برداشت کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اضافی کیلوریز شامل کیے بغیر کارکردگی بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ مشورہ صرف عام جم سیشن کے لیے ہے جو بہت زیادہ سخت نہ ہو۔ زیادہ لمبی دوڑ یا زیادہ شدت والی ورزش خالی پیٹ کرنے سے آپ کو چکر آپ سستی محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیلا یا ٹوسٹ کا ایک ٹکڑا، مفید ایندھن فراہم کر سکتے ہیں۔
اسٹیو کے مطابق اگر آپ کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو مکمل کھانے اور ورزش کے درمیان دو سے تین گھنٹے کا وقفہ رکھنا بہتر ہے تاکہ معدے کی تکلیف سے بچا جا سکے۔ اگر آپ کے پاس صرف 15 سے 30 منٹ ہیں تو کھانا بہت کم مقدار میں رکھیں۔ سخت ورزش سے پہلے آدھا کیلا فوری توانائی فراہم کر سکتا ہے، جبکہ ہلکی ورزش سے پہلے شاید آپ کو کچھ کھانے کی ضرورت ہی نہ ہو۔
عام جم سیشن، فٹنس کلاس یا مختصر دوڑ کے لیے ماہرین کے مطابق صرف پانی کافی ہے۔ اسٹیو کہتے ہیں کھیلوں کے مشروبات، انرجی جیل اور جسم میں پانی و نمکیات کی کمی پوری کرنے والے مشروبات زیادہ طویل یا سخت برداشت والی ورزش کے دوران مفید ہو سکتے ہیں۔
ایک جائزے کے مطابق ورزش کے دوران میٹھی چیزیں کھانے سے کارکردگی میں بہتری صرف اس وقت دیکھی گئی جب ورزش 70 منٹ یا اس سے زیادہ جاری رہی۔ طویل دوڑ یا سائیکلنگ کے دوران تیزی سے توانائی فراہم کرنے والے کاربوہائیڈریٹس، مثلاً شوگر جیل، توانائی برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جیلی کینڈی بھی تقریباً یہی کام کرتی ہے۔ اسٹیو کا کہنا ہے کہ جیل کا فائدہ اس کی شکل میں ہے، غذائیت میں نہیں۔ اسے ساتھ لے جانا آسان ہوتا ہے۔ 90 منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی برداشت والی ورزش کے لیے وہ تقریباً 30 سے 60 گرام کاربوہائیڈریٹس فی گھنٹہ تجویز کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔