اماراتی پرواز واقعے پر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا سامنا

—فوٹو بشکریہ ایکس 

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کو  سوشل میڈیا پر اسرائیلی پروپیگنڈا قرار دیا جانے لگا۔

اماراتی پرواز کے مسافر سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی ملاقات کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اماراتی پرواز میں کے اسرائیلی مسافر یانیو ہئیون سے ملاقات کی ویڈیو شیئر کی۔

دورانِ ملاقات یانیو ہئیون نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو بتایا کہ اس نے کاک پٹ میں داخل ہو کر دیگر مسافروں کی مدد سے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔

مسافر نے بتایا کہ حملہ آور طیارے کے کنٹرول سسٹم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

یانیو ہئیون کی نیتن یاہو سے ملاقات کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مسافر کے خون آلود کپڑوں سمیت واقعے کے مختلف پہلوؤں پر کئی سوالات اٹھا دیے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ مسافر کے کپڑوں پر لگا خون اصلی نہیں ہے، صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ آپریشن ہے اور اسرائیلی حکومت کا شیطانی پروپیگنڈا ہے۔

واضح رہے کہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زی 1073 دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز کاک پٹ میں پُرتشدد واقعہ پیش آیا۔

طیارے نے اچانک تقریباً 14 ہزار فٹ سے زائد بلندی کھو دی، تاہم متبادل عملے اور مسافروں کی مدد سے اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں باحفاظت اتار لیا گیا۔

واقعے میں کپتان اور شریک پائلٹ زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کی وجوہات اور محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔