پاکستانی معروف اداکارہ زارا نور عباس نے اپنی خالہ، لیجنڈری اداکارہ بشریٰ انصاری سے متعلق دیے گئے بیان پر وضاحت پیش کر دی۔
انہوں نے کہا ہے کہ میرے الفاظ کو شکایت کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ میرا ایسا مقصد نہیں تھا۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکارہ نے ایک وائرل نیوز اسٹوری ری شیئر کی ہے۔
انہوں نے مذکورہ خبر پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان جو کہتا ہے، اس کی جو تشریح کی جاتی ہے، جو کچھ لکھا جاتا ہے اور بالآخر لوگ جو سمجھتے ہیں، یہ سب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔
زارا نور عباس نے لکھا ہے کہ میری خالہ سب سے بہترین ہیں، انڈسٹری میں ہماری اقرباء پروری پر حسد نہ کریں۔
اس سے قبل مختلف سوشل میڈیا پیجز پر زارا نور عباس کے انٹرویو کا ایک مختصر بیان وائرل ہو رہا تھا، جس میں انہوں نے بشریٰ انصاری کے حوالے سے گفتگو کی تھی، تاہم اسے شکایت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کسی معروف رشتے دار کا ہونا لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ فلم ساز کسی اداکارہ پر بڑی سرمایہ کاری کریں گے، اداکارہ سے پھر بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ باکس آفس پر خود کو ثابت کرے۔
زارا نے اپنے کیریئر اور پیشہ ورانہ سفر کے دوران شوہر اسد صدیقی کی جانب سے ملنے والی حمایت کا بھی ذکر کیا تھا۔
خیال رہے کہ جیو فلمز کے اشتراک سے پیش کی جانے والی فلم ’شیروز‘ آج 2 اکتوبر کو سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
ثاقب خان اور بدر محمود کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کی کہانی 3 خواتین کے گرد گھومتی ہے، فلم میں زارا نور عباس ایک ایسی پولیس افسر کا کردار ادا کر رہی ہیں جو بم ناکارہ بنانے کے عمل سے وابستہ ہے، جبکہ اُشنا شاہ ایک باکسر اور کنزا ہاشمی ایک فن کارہ کے کردار میں دکھائی دیں گی۔
فلم کی ہدایت کاری ثاقب خان اور بدر محمود نے انجام دی ہے۔