ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے کیا کھایا جائے اور پاکستانیوں کے لیے روٹی چھوڑنا ناممکن ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ذیابیطس کی تشخیص کے بعد روٹی مکمل طور پر چھوڑنا ضروری نہیں لیکن آٹے کا انتخاب بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض جو، خالص گندم، جوار، باجرہ، راگی اور بیسن سے بنی روٹیاں استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں فائبر اور بعض صورتوں میں پروٹین زیادہ ہوتا ہے، جبکہ کئی اقسام کا گلائسیمک انڈیکس نسبتاً کم ہوتا ہے۔
خاص طور پر جو کی روٹی میں موجود حل پذیر فائبر ’بیٹا گلوکن‘ ہاضمے اور گلوکوز کے جذب ہونے کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔
اسی طرح خالص گندم کی روٹی میں چوکر برقرار رہنے سے فائبر کی مقدار زیادہ رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روٹی کی قسم کے ساتھ ساتھ اس کی مقدار، پکانے کا طریقہ اور ساتھ کھائی جانے والی دیگر غذائیں بھی بلڈ شوگر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ اپنی غذا میں تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کریں۔