کیا ایران آبنائے ہرمز پر گرفت کھو رہا ہے؟

—فائل فوٹو 

ایران اور امریکا کے درمیان رواں سال فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، ایسے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں نمایاں بحالی ایران کے مذاکراتی اثر و رسوخ پر سوال اٹھا رہی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ٹینکرز کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 

تجارتی تجزیاتی ادارے کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات 16.328 ملین بیرل یومیہ رہیں جو جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے جبکہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 9.719 ملین بیرل یومیہ تیل گزرا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی برآمدات میں نمایاں اضافے نے بھی تیل کی ترسیل کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تاہم مشرقِ وسطیٰ کی تیل کی برآمدات اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 3.2 ملین بیرل یومیہ کم ہیں، جبکہ جہازوں کی اصل آمد و رفت اور تیل کی برآمدات اس سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 120 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے جن میں تقریباً نصف تیل بردار جہاز ہوتے تھے اور روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل منتقل ہوتا تھا، ایران جنگ کے دوران یہ آمد و رفت کم ہو کر صرف 2 ٹینکرز یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔

عرب میڈیا میں شائع کیے گئے تجزیاتی مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی ترسیل میں بحالی سے ایران کی آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت کا اثر کم ہو سکتا ہے تاہم اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں فوجی تنازع اب بھی جاری ہے اور ایران چھوٹے جہازوں کو روک رہا ہے۔ 

برطانوی بحری تجارتی ادارے کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز میں 3 جہاز نامعلوم حملوں کا نشانہ بھی بنے جن میں ایک خام تیل بردار جہاز شامل تھا۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی اب تک بلند ہیں، منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 2.6 فیصد کم ہو کر 102.59 ڈالرز فی بیرل ہو گئی تاہم ستمبر میں مجموعی طور پر قیمت میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا۔

عرب میڈیا کے مطابق ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات، ٹینکرز کی بلند بیمہ لاگت اور ایندھن کی محدود ترسیل اب بھی معمول کی صورتِ حال کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو شدید معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے، ایرانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21 مارچ سے 20 جون کے دوران ایرانی معیشت کی شرحِ نمو میں سالانہ بنیاد پر 10.1 فیصد کمی ہوئی جبکہ تیل اور گیس کے شعبے میں 26.4 فیصد سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق معاشی مشکلات کے باوجود ایران آسانی سے امریکی شرائط تسلیم نہیں کرے گا، ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران نے ماضی میں بھی طویل عرصے تک شدید معاشی دباؤ برداشت کیا ہے اور ایران مکمل دباؤ کے تحت مذاکرات کرنے کے بجائے باہمی رعایت چاہتا ہے۔

جنگ کے معاشی اثرات امریکا پر بھی پڑ رہے ہیں، رواں ماہ امریکی ڈیزل کی قیمت ریکارڈ 6.53 ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

امریکی حکومت قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، توانائی کی بلند قیمتوں نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان 3 گھنٹے تک بالواسطہ بات چیت ہوئی۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے 7 روزہ منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیاں نرم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے کی شرائط شامل تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان شرائط کو مسترد کر دیا تھا تاہم بدھ کو قطر کے ذریعے ایران کو امریکی جواب موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق اب بنیادی اختلاف منصوبے کی شرائط پر نہیں بلکہ ان اقدامات کے نفاذ کی ترتیب پر ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران جنگ ختم کرنے کے لیے سمجھوتے پر آمادہ ہے مگر اسے کمزوری کے طور پر دیکھنا مذاکرات کو مزید مشکل بنا سکتا ہے، ایران کی جانب سے لچک کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے، امریکی دباؤ کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنا نہیں۔