وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آنا چاہتی ہیں۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا کام کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے، کاروبار نجی شعبے نے کرنا ہے، پائیدار معاشی استحکام کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور نجکاری کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، نجکاری کا منصوبہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2024ء میں جب میں کراچی آیا تھا تو اسٹاک انڈیکس 67 ہزار کی سطح پر تھا، اپنا گھر اسکیم کے تحت 60 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، بینکوں نے 340 ارب روپے کے قرضے منظور کیے ہیں۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ کیپیٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے، بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے سوال ہوتا ہے کہ سرمایہ کہاں ہے؟ اس عمل میں وقت لگتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام کو پائیداری دینا ضروری ہے، ٹیکسوں کا ہدف پورا نہ ہونے پر ہی سرخی بنتی ہے، ہدف سے زائد ٹیکس جمع کرنے پر بھی توجہ ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں نئی معیشت 2.0 پیش کرنی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ بانڈ مارکیٹ کی رسائی خوردہ مارکیٹ تک بڑھائی جائے۔