اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اماراتی پرواز کا وہ پائلٹ جس نے اپنے کوپائلٹ کی طیارے کو گرانے کی مبینہ کوشش کے خلاف مزاحمت کی، اس نے 9/11 جیسے سانحے کو رونما ہونے سے روک دیا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ میں نے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس واقعے کے بارے میں بات کی اور اسے انتہائی، انتہائی بہادری کا مظاہرہ قرار دیا، جس نے ایک ایسے سانحے کو روک دیا جو نا صرف اسرائیل کے لیے تباہ کن ہوتا بلکہ عالمی ہوا بازی پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اس واقعے اور ماضی کے دیگر المناک حملوں میں فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ اچھے لوگوں کی فتح ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو آج کے واقعے کے حوالے سے نہ تو کوئی پیشگی اطلاع ملی تھی اور نہ ہی اس بارے میں کوئی انٹیلی جنس معلومات موجود تھیں، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ فلائی دبئی حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے بارے میں کہنا ابھی قبل از وقت ہے، اسرائیل ممکنہ طور پر اس حوالے سے تحقیقات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور پائلٹ سے سعودی عرب میں پوچھ گچھ جاری ہے، حملہ آور پائلٹ کو مزید تحقیقات کے لیے متحدہ عرب امارات واپس لے جایا جائے گا، جبکہ طیارہ گرانے کے منصوبے کی تحقیقات میں اسرائیل بھی حصہ لے سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ میں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے دوبارہ بات کی اور انہوں نے فوری طور پر اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں تحقیقات میں شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اصل میں کیا ہوا تھا، ہم جلد حملہ آور کی اصلیت تک پہنچ جائیں گے، حملہ آور کے ساتھی کون تھے یا کیا ایران اس کے پیچھے تھا؟ ہمیں بہت جلد ان سب باتوں کا پتہ چل جائے گا۔
اسرائیل نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملے کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم حکام مبینہ حملہ آور کے محرکات سے متعلق تفصیلات تاحال عوام کے سامنے نہیں لائے ہیں۔