حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے سالانہ قرض منصوبہ جاری کردیا، جس کے تحت وفاقی مالی خسارے کے لیے 7 ہزار 20 ارب روپے کی فنانسنگ درکار ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب روپے جبکہ بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جبکہ نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق جون 2026ء تک مجموعی سرکاری قرض 86.7 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا، جس میں ملکی قرض 59.4 ٹریلین اور بیرونی قرض 27.3 ٹریلین روپے رہا۔
مالی سال 27-2026 میں مجموعی مالی ضروریات 28 ہزار 647 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 20 فیصد کے برابر رہنے کا امکان ہے۔
منصوبے کے مطابق قرض کی اصل ادائیگیوں کے لیے 17 ہزار 96 ارب روپے درکار ہوں گے، جبکہ بیرونی قرض کی ادائیگیوں کا حجم 4 ہزار 531 ارب روپے متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ٹی بلز کی مد میں خالص قرض منفی 2 ہزار 592 ارب روپے ہوگا، جبکہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے 4 ہزار 580 ارب روپے کی خالص نئی فنانسنگ حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
حکومت نے 20 سالہ فکسڈ کوپن بانڈ متعارف کرانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جبکہ مالی سال 27-2026 میں 6 ہزار 600 ارب روپے کے سکوک جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت قلیل مدتی قرضوں کے اجرا کو محدود رکھتے ہوئے طویل مدتی سیکیورٹیز پر توجہ مرکوز کرے گی۔
بیرونی ذرائع سے 13.3 ارب ڈالر حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کا مجموعی حجم 10.5 ارب ڈالر متوقع ہے۔
ملٹی لیٹرل ذرائع سے 4.9 ارب ڈالر کی بیرونی آمد جبکہ بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق قرض کی اوسط مدت جون 2024ء میں 2.7 سال تھی جو جون 2026ء میں بڑھ کر 3.8 سال ہوگئی، جبکہ حکومت نے 2028ء تک اسے 4.2 سال تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2026ء میں سودی اخراجات میں 22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ حکومت نے ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔