سفارتکاری و قیامت خیز جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں، فیصلہ ٹرمپ کو کرنا ہے: عباس عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران قیامت خیز جنگ کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے گزشتہ روز امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں ایران مکمل طور پر تیار ہے اور اگر معاملہ قیامت خیز جنگ تک بھی پہنچ جائے تو ایران اپنے مؤقف پر ڈٹا رہے گا، تاہم ایران سفارت کاری کے لیے بھی بدستور تیار ہے۔

عباس عراقچی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ اب امریکی صدر ٹرمپ کو کرنا ہے، ہم سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق ایران اب بھی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے، اگرچہ امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے تحت امریکا کی جانب سے طے شدہ اقدامات کے بعد چھٹے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ ساتویں روز حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع ہوں گے۔

عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس موجود 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو مستقبل کے مذاکرات میں زیرِ غور لایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ واشنگٹن نیک نیتی اور قیامِ امن کے لیے حقیقی عزم کا مظاہرہ کرے۔