ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) حیدر آباد طارق رزاق دھاریجو نے تاجر نریش کمار کے قتل کیس میں اہم پیشرفت بتادی۔
پولیس ہیڈ کوارٹر حیدرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران طارق رزاق دھاریجو نے کہا کہ تاجر نریش کمار کے قتل کے 2 مبینہ ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں جبکہ واردات میں ملوث ایک ساتھی تاحال فرار ہے، پولیس نے عدالت سے ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔
ڈی آئی جی حیدرآباد کا کہنا تھا کہ نریش کمار کا قتل کاروباری لین دین کے تنازع کا نتیجہ تھا۔ گرفتار ملزم 60 لاکھ روپے کا مقرض تھا، جس نے نریش کمار کو قتل کرنے کے لیے کرائے کے قاتل سے 10 لاکھ روپے میں سودا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مقتول کی گاڑی کے ٹریکر اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی گئی۔
طارق رزاق دھاریجو نے مزید کہا کہ مقتول نریش کمار کے ملزم وقاص مغل کی جانب تقریباً 60 سے 70 لاکھ روپے تھے جبکہ وقاص مغل پر مارکیٹ کے بھی واجبات تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وقاص مغل نے نریش کمار کو قتل کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے میں اسد دھماج سے ڈیل کی اور 2 لاکھ روپے ادا کیے جاچکے تھے۔
ڈی آئی جی حیدرآباد نے کہا کہ مقتول کی لاش اس کی اپنی گاڑی سے برآمد ہوئی تھی، گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مفرور ساتھی رانا شعیب کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
طارق رزاق دھاریجو نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے تھریٹ ہے، سرحدی علاقے میں مزید اہلکار تعینات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دادو کے پہاڑی علاقے میں بھی تھریٹ کو سیکیور کیا ہے۔ سرحدی علاقے محفوظ رہیں گے تو سندھ میں سب ٹھیک رہے گا۔