ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو اپنی دیوہیکل تصویر دکھائی

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی واشنگٹن میں اہم ملاقات کے دوران روایتی سفارتی انداز کے ساتھ کئی غیر معمولی اور دلچسپ لمحات بھی دیکھنے میں آئے۔

ٹرمپ نے روایت سے ہٹ کر شی جن پنگ کے طیارے کے قریب جا کو خود چینی صدر کا استقبال کیا جہاں 100 فٹ طویل سرخ قالین بچھایا گیا تھا۔

اس دوران امریکی فوجی لڑاکا طیاروں نے فضائی مظاہرہ بھی پیش کیا جس کی آواز سے ٹرمپ غیر آرام دہ نظر آئے جبکہ چینی صدر تحمل مزاجی سے ساکت کھڑے رہے۔

دورے کے دوران ٹرمپ نے شی جن پنگ کو وائٹ ہاؤس کی ایک گیلری کا اچانک دورہ کروایا اور وہاں نصب اپنی ایک دیوہیکل تصویر بھی دکھائی۔

دوسری جانب متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کی تصویروں کو بعد ازاں اے آئی سے تبدیل کر کے سوشل ٹروتھ پر پوسٹ کیا۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تجارت، علاقائی سلامتی اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہوئی جبکہ عالمی منڈیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی نظریں مذاکرات کے نتائج پر مرکوز رہیں۔

ملاقات کے دوران شاندار سرکاری عشائیہ بھی دیا گیا جس میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی اہم شخصیات نے بھی خصوصی شرکت کی۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر ایک بڑے نئے بال روم کے منصوبے کا غیر معمولی دورہ بھی کروایا۔

سفارتی سرگرمیوں کے دوران عقاب کے مجسموں سمیت خصوصی سجاوٹ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق قریبی تعاون بھی نمایاں رہا۔