القدس کی حیثیت بدلنے کی یکطرفہ کوششیں مسترد کی جائیں: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار—فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اردن کی میزبانی میں نیویارک میں ہونے والے عرب لیگ اور 4 اسلامی ممالک کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی جس میں القدس کی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے مسجدِ اقصیٰ کی مسلسل خلاف ورزیوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی یک طرفہ کوششیں مسترد کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اردن کی ہاشمی سرپرستی کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا اور مسجدِ اقصیٰ کے معاملات میں یروشلم اوقاف اور الاقصیٰ امور کے محکمے کے خصوصی اختیار کی حمایت کرتا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے یروشلم اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کے تحفظ کے لیے عالمی حمایت متحرک کرنے پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ امن منصوبے پر سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 سمیت متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے جبکہ القدس الشریف فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے کام جاری رکھے گا۔