بالغ عمر میں دماغ 2 مرتبہ بڑی حیاتیاتی تبدیلی سے گزرتا ہے: تحقیق

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

سائنس دانوں نے انسانی دماغ کے پری فرنٹل کارٹیکس میں زندگی بھر ہونے والی خلیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ بالغ زندگی کے دوران دماغ کی سرگرمی میں 2 اہم مرحلے نمایاں ہوتے ہیں۔

تحقیق کے لیے پیدائش سے 97 سال تک کی عمر کے 284 افراد کے دماغوں سے حاصل کیے گئے 13 لاکھ سے زائد خلیات کا نیوکلیائی تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق دماغ کی نشو و نما کے دوران سب سے زیادہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، تاہم تقریباً 24 سال کی عمر میں پری فرنٹل کارٹیکس کی خلیاتی ساخت نسبتاً مستحکم ہو جاتی ہے، یہ حصہ منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور پیچیدہ ذہنی کاموں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ استحکام بالغ عمر کے بیشتر حصے میں برقرار رہتا ہے، تاہم 60 سال کی عمر کے بعد دماغ میں ایک مرتبہ پھر نمایاں حیاتیاتی تبدیلیاں دیکھی گئیں، خاص طور پر گلیئل خلیات میں سالماتی سرگرمی میں اضافہ سامنے آیا، یہ خلیات اعصابی خلیوں کو سہارا دینے اور ان کی حفاظت کے علاوہ دماغ کے مدافعتی ردِعمل میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق عمر کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں میں سوزش، خلیاتی دباؤ اور دماغ کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی سے متعلق عوامل بھی شامل تھے، نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں اعصابی خلیوں کی 24 گھنٹے کی سرگرمی زیادہ منظم تھی، جبکہ 60 سال کے بعد یہ کم نمایاں ہو گئی۔

محققین نے واضح کیا کہ 24 اور 60 سال کی عمریں دماغ کی تبدیلی کے قطعی یا یکساں مراحل نہیں بلکہ تحقیق میں سامنے آنے والے وسیع حیاتیاتی رجحانات کے نمایاں مقامات ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر سے منسلک بعض جینز ابتدائی نشو و نما کے دوران زیادہ فعال تھے، جبکہ الزائمر سے وابستہ جینز عمر رسیدہ افراد کے گلیئل خلیات میں زیادہ نمایاں ہوئے۔

محققین کے مطابق نتائج اس تصور کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں کہ دماغ صرف بچپن میں نشو و نما پاتا اور پھر مسلسل عمر رسیدہ ہوتا ہے، اس کے بجائے دماغ میں ابتدائی زندگی میں تیز تبدیلیاں، بالغ عمر میں طویل استحکام اور بعد کی عمر میں ایک مرتبہ پھر حیاتیاتی تبدیلیوں کا مرحلہ دیکھا جاتا ہے۔