غزہ پر بنی دستاویزی فلم نازا نے اسرائیل میں ہلچل مچا دی، نیتن یاہو کی فلمسازوں کی شہریت ختم کرنے کی دھمکی

—فائل فوٹو 

اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل زور کی دستاویزی فلم نازا نے وینس فلم فیسٹیول میں زبردست پذیرائی حاصل کی اور خصوصی جیوری ایوارڈ جیتا، فلم کی نمائش کے بعد اسے 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی جو فیسٹیول کا ریکارڈ قرار دیا گیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نازا فلم میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے ذرائع سے معلومات اور 24 اسرائیلی فوجیوں کی خفیہ شناخت کے ساتھ گواہی شامل کی گئی ہے۔

ان اسرائیلی ذرائع کے مطابق غزہ میں اہداف کے تعین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیا گیا اور ایسے حملوں کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئی ہیں جن میں شہریوں کی ہلاکتوں کا پہلے سے علم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فلم کا نام نازا بھی ایک ایسی اصطلاح ہے جو شہری ہلاکتوں کی متوقع تعداد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

فلم کی کامیابی پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کے ثقافتی امور کے وزیر میکی زوہر نے دونوں فلم سازوں پر ریاست سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی اسرائیلی شہریت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی ایسے اسرائیلی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے قانون سازی کی بات کی ہے جو بیرونِ ملک اسرائیلی فوجیوں کو بدنام کر رہے ہیں۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم سازوں اور ان کے خاندانوں کو بھی دھمکیوں اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے فلم سے متعلق ممکنہ قانونی کارروائی اور معلومات افشا ہونے کی تحقیقات پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق فلم سازوں کا مؤقف ہے کہ وہ اسرائیلی شہری ہونے کے ناتے اندرونی ذرائع کی گواہی سامنے لانا چاہتے تھے تاکہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے اثرات پر اسرائیلی اور عالمی ناظرین غور کریں۔

اسرائیلی حکام فلم میں سامنے لائے گئے  الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فوج اور اسرائیل کے خلاف مہم قرار دے رہے ہیں۔