ملائیشین تارکِ وطن خاتون نے امتیازی سلوک کا مقدمہ جیت لیا

فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانیہ میں کام کرنے کا قانونی حق نہ رکھنے والی ملائیشین تارکِ وطن ہوٹل مینیجر خاتون نے امتیازی سلوک کے خلاف مقدمہ جیت کر 5000 پاؤنڈ حاصل کر لیے۔

ملائیشین تارکِ وطن خاتون ایرن اونگ کو امتیازی سلوک کے دعوے میں ایمپلائمنٹ ٹربیونل میں فتح حاصل ہو گئی۔

ہوٹل کی اعلیٰ تعلیم یافتہ مینیجر ایرن اونگ کو نسل، جنس اور معذوری کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا شکار ہونے کے ہرجانے کے طور پر 5497 پاؤنڈ کی رقم دی گئی۔

ایرن اونگ جب ایمبل سائیڈ کمبریا کے فشر بیک ہوٹل میں مینیجر تھیں تب ان کے پاس برطانیہ کے لیے ورک پرمٹ نہیں تھا، مارچ 2023ء میں خاتون سے رابطہ کیا گیا تھا، وہ ملائیشیا کی واحد ملازمہ تھیں جسے مقامی ہوٹل میں مینیجر کا عہدہ دیا گیا جبکہ دیگر عملے میں پولش، لیٹوین، ہسپانوی اور چینی بھی موجود تھے۔

ہوٹل مالک کی طرف سے ایرن اونگ کی تنخواہ طے کی گئی مگر کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں کیا گیا، وہ وزیٹر ویزے پر برطانیہ میں داخل ہوئی تھیں، 5 سال کی عمر سے انہیں دمے کا مرض لاحق تھا جبکہ ہوٹل میں ان کی ڈیوٹی میں پرندوں کے پروں سے بنے تکیے اور دیگر سامان و کیمیکل صاف کرنے کی ذمے داری دی گئی تھی جس سے انہیں سانس لینے میں اکثر دشواری کا سامنا رہتا تھا۔

ایرن اونگ کو ہفتے میں 5 بار اپنا انہیلر استعمال کرنا پڑتا تھا۔

ایرن اونگ نے ہوٹل کی جانب سے ادائیگی نہ ہونے پر کیس کو ایمپلائمنٹ ٹربیونل میں دائر کیا جہاں انہوں نے معذوری، جنسی امتیاز اور نسلی امتیاز کے دعوے کو ثابت کر کے کیس جیت لیا۔