والد چل بسے تو احساس ہوا کہ اب میں آزاد ہوں: کرن جوہر

— فائل فوٹو

بالی ووڈ کے معروف فلم ساز کرن جوہر نے حال ہی میں اپنے والد یش جوہر کے گزر جانے کے بعد اپنے فلمی انتخاب میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 1998ء میں فلم کچھ کچھ ہوتا ہے سے ہدایت کاری کا آغاز کرنے والے فلم ساز نے بتایا ہے کہ والد زندہ ہوتے تو وہ مجھے فلم کبھی الوداع نہ کہنا بنانے کی اجازت شاید کبھی نہ دیتے۔

مراکش فلم فیسٹیول کے دوران گفتگو کرتے ہوئے 54 سالہ ہدایت کار نے 2006ء میں ریلیز ہونے والی اپنی فلم میں بے وفائی جیسے موضوع کو منتخب کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔

کرن جوہر نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ میں نے اس فلم کی ہدایت کاری سے عین پہلے اپنے والد کو کھو دیا تھا، میرے والد میرے اخلاقی رہنما تھے، کئی حوالوں سے مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھے کبھی یہ فلم بنانے کی اجازت دیتے، کیونکہ وہ بہت روایتی اور قدامت پسند انسان تھے، وہ شاہ رخ خان کو بھی بے حد عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ چل بسے تو مجھے محسوس ہوا کہ اب وہ نگرانی موجود نہیں رہی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ تمام حدود اور رکاوٹیں توڑ کر وہی بناؤں گا جو میں بنانا چاہتا ہوں، مجھے احساس ہوا کہ اب میں آزاد ہوں، اس تجربے کے اختتام پر مجھے محسوس ہوا کہ میں بالغ ہو چکا ہوں۔

واضح رہے کہ معروف فلم پروڈیوسر اور دھرما پروڈکشنز کے بانی یش جوہر 2004ء میں 74 برس کی عمر میں چل بسے تھے۔

کرن جوہر کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کبھی الوداع نہ کہنا نے باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کی اور دنیا بھر میں اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔

رومانوی ڈرامہ فلم میں شاہ رخ خان، رانی مکھر جی، ابھیشیک بچن، پریتی زنٹا، امیتابھ بچن اور دیگر اداکاروں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔