چین میں 65 سالہ خاتون نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے خود کو 29 سالہ خوبرو ڈاکٹر ظاہر کر کے ایک کاروباری شخص سے تقریباً 25 ہزار ڈالرز ہتھیا لیے۔
چینی میڈیا کے مطابق یو شیو ژین نامی خاتون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جعلی شناخت بنائی اور چہرہ تبدیل کرنے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو شنگھائی کے ایک بڑے اسپتال میں کام کرنے والی 29 سالہ ڈاکٹر ظاہر کیا، تاہم حقیقت میں وہ اسی اسپتال میں صفائی کا کام کرتی تھی۔
خاتون نے تقریباً 5 سال کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تقریباً 7 ہزار تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور اس کے تقریباً 10 ہزار فالوورز بن گئے۔
شنگھائی کے رہائشی تعمیراتی ٹھیکیدار لیو ہوئی نے 2021ء میں خاتون کا جعلی اکاؤنٹ دیکھا، خاتون نے اسے یقین دلایا کہ اسپتال میں اپنے عہدے کی وجہ سے وہ بڑے تعمیراتی ٹھیکے دلوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کاروباری فائدے کی امید میں لیو ہوئی نے خاتون سے آن لائن رابطہ بڑھایا اور دونوں کے درمیان مبینہ طور پر رومانوی تعلق قائم ہو گیا، تاہم جب بھی لیو نے ملاقات یا ویڈیو کال کی درخواست کی، خاتون مختلف بہانے بنا کر انکار کرتی رہی۔
بعد ازاں خاتون نے اپنی والدہ کے نام سے ایک اور جعلی شناخت بنائی اور لیو سے کہا کہ میری والدہ اس رشتے کے خلاف ہیں، جعلی والدہ کا کردار ادا کرتے ہوئے خاتون نے لیو سے 3 لاکھ یوآن مہر کے طور پر ادا کرنے اور مقامی علاقے میں ایک مکان خریدنے کا مطالبہ کیا۔
لیو نے خاتون پر یقین کرتے ہوئے 5 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 70 ہزار یوآن منتقل کر دیے، تاہم جب اسے کوئی کاروباری ٹھیکہ نہ ملا تو اس نے پولیس سے رابطہ کیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے خاتون کو تلاش کرلیا تو معلوم ہوا کہ وہ 65 سالہ صفائی ورکر ہے اور اس کے خلاف ماضی میں بھی فراڈ کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کی حقیقی والدہ کئی سال قبل انتقال کر چکی تھیں، جبکہ اس نے دھوکے سے حاصل کی گئی رقم کاسمیٹک سرجری، مہنگی جلد کی مصنوعات اور نئے کپڑے خریدنے پر خرچ کی۔
پولیس نے خاتون کی ویڈیوز کا جائزہ لیا تو ان میں ایک چھوٹا سا انتباہ بھی موجود تھا جس میں درج تھا کہ مواد مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے یہ انتباہ لیو کو دکھائے جانے پر اس نے بتایا کہ میں جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے واقف نہیں تھا، اسی لیے ویڈیوز میں موجود تحریر پر میری نظر نہیں گئی۔