5 اضلاع کے 1336 سرکاری اسکولوں میں ’سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام‘ شروع کرنے کا منصوبہ

اسکرین گریب بشکریہ ایکس اکاؤنٹ

وزیرِاعلیٰ سندھ سے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک کی نمائندہ انیتا ہرش نے ملاقات کی جس میں سندھ حکومت اور عالمی ادارۂ خوراک کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں بتایا گیا کہ سندھ کے 5 اضلاع کیماڑی، ملیر، سجاول، ٹھٹہ اور ٹنڈو محمد خان کے 1336 سرکاری اسکولوں کے ڈھائی لاکھ طلبہ ’سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام‘ سے مستفید ہوں گے۔

اجلاس میں بینظیر نشو و نما پروگرام کے لیے عالمی ادارۂ خوراک کی جاری معاونت، موسمیاتی خطرات سے متاثرہ کمزور آبادی کے تحفظ اور پیشگی اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’سندھ پائیدار اسکول کھانا پروگرام‘ بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، سندھ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہے۔

عالمی ادارۂ خوراک کی نمائندہ انیتا ہرش نے کہا کہ اسکول کھانا پروگرام غذائیت، تعلیم، صحت اور مقامی اقتصادی ترقی کا امتزاج ہے، ادارے کی حکمتِ عملی حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے اور انسانی ضروریات کم کرنے والے حکومتی حل کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔

ملاقات میں موجود صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ غذائی قلت بچوں اور ماؤں کو درپیش سنگین چیلنجز میں شامل ہے، محکمۂ صحت غذائیت اور ماں، بچے کی صحت کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔