بالی ووڈ اداکار منوج باجپائی نے اپنی تصویر، آواز اور شناخت کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
منوج باجپائی نے درخواست میں اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں اداکار کی تصاویر کے مبینہ تجارتی استعمال اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے آواز کی نقل تیار کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
درخواست میں نامزد ایک فریق ایچ ٹو پی جی ڈیزائنز پرائیویٹ لمیٹڈ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے منوج باجپائی کی تصاویر اس انداز میں استعمال کیں جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ اداکار مذکورہ برانڈ کے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کیے ہوئے ہیں۔
ایک اور فریق پر مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اداکار کی آواز کی نقل تیار کرنے کا الزام ہے۔
منوج باجپائی نے ایسے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کے استعمال سے بھی تحفظ کی درخواست کی ہے جو ان کی شناخت سے جڑی خصوصیات استعمال کر سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ مقدمہ دہلی میں کیوں دائر کیا گیا؟ کیونکہ اداکار بنیادی طور پر ممبئی میں مقیم ہیں۔
ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض فریق دہلی میں مقیم ہیں، اس لیے عدالت کو مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے منوج باجپائی کے وکیل کو شخصی حقوق سے متعلق سابقہ عبوری اور حتمی عدالتی فیصلے، جن میں دیگر ہائی کورٹس کے فیصلے بھی شامل ہیں، ریکارڈ پر پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
منوج باجپائی کی درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے معروف شخصیات کی آواز، تصاویر اور شناخت کی نقل تیار کرنے کے حوالے سے قانونی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔