بنگلادیش میں رکن اسمبلی غازی نذر الاسلام کی دوسری اہلیہ 19 سالہ مریم نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی، پولیس نے غازی نذر الاسلام اور ان کی پہلی اہلیہ کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی آر کے مطابق گزشتہ روز غازی نذرالاسلام کی دوسری اہلیہ مریم اپنے گھر پر پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی، جبکہ اس کے بستر سے ایک ہاتھ سے لکھی مبینہ خودکشی کی تحریر بھی ملی۔
ایف آئی آر کے مطابق معصوم باللّٰہ کریانہ فروش اور تین بیٹیوں کے والد ہیں، جبکہ مریم ان کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ مریم نے جون میں غازی نذر الاسلام سے شادی کی تھی۔
مریم کے والد نے الزام لگایا کہ عبیدالرحمان نے شادی کے لیے براہِ راست کردار ادا کیا تھا۔ شادی کے بعد مریم نے فون پر اپنے اہل خانہ کو متعدد مرتبہ بتایا کہ غازی نذر الاسلام اور مقصودہ اسے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
معصوم باللّٰہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ان کی بیٹی ان سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی، تاہم وہ اکثر رکن اسمبلی سے فون پر بات کرتے تھے اور مریم ان کے ساتھ موجود ہوتی تھیں۔
ان کے مطابق جب وہ اپنی بیٹی سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو وہ بمشکل جواب دیتی تھی۔ انہوں نے مریم کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں اور اصل ذمہ دار کو سزا ملنی چاہیے۔
مریم کے والد نے واقعے کا ذمہ دار اپنی بیٹی کے ماموں عبیدالرحمان کو قرار دیا۔ ان کے بقول مریم نے انہیں بتایا تھا کہ اسے عبیدالرحمان پر اپنے والد سے بھی زیادہ اعتماد تھا، لیکن اسی اعتماد کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہوئی۔
والد کے مطابق مریم نے کہا تھا کہ میں لوگوں کو اپنا چہرہ کیسے دکھاؤں؟ وہ میرے ماموں ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کریں گے۔ مجھے معاف کردیں۔
معصوم باللّٰہ نے بیٹی کی موت کا مقدمہ شیرِ بنگلہ نگر پولیس اسٹیشن میں غازی نذر الاسلام، ان کی پہلی اہلیہ مقصودہ بیگم اور عبیدالرحمان کے خلاف درج کروا دیا، جس میں خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
بعد ازاں پولیس نے غازی نذر الاسلام اور ان کی پہلی اہلیہ کو عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے غازی نذر الاسلام کو 4 روزہ اور مقصودہ بیگم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
پولیس نے دونوں کے لیے 7 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
خیال رہے کہ غازی نذر الاسلام جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر ستکھیرا-4 سے منتخب ہوئے تھے، لیکن ان کی دوسری شادی کے معاملے پر جماعت اسلامی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔
پارٹی کی جانب سے کی گئی اندرونی تحقیقات میں انہیں ’اخلاقی پستی‘ کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔