معاشی تھنک ٹینک کی ضلعی سطح پر تجارتی پالیسی تشکیل دینے کی سفارش

معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے تجارتی پالیسیوں کی ناکامی کی رپورٹ جاری کردی، معاشی تھنک ٹینک نے ضلعی سطح پر تجارتی پالیسی کی تشکیل کی سفارش کردی۔  

معاشی تھنک ٹینک میں معروف کارباری شخصیات گوہر اعجاز، بشیر جان محمد، سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ، سابق سیکریٹری احمد نواز سوکھیرا تھنک ٹینک میں شامل ہیں۔ 

معاشی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد صنعت، زراعت اور ہنرمندی کے شعبے صوبوں کے پاس ہیں، تجارتی پالیسی اب بھی وفاقی سطح پر ہے۔ 

معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق نئی تجارتی پالیسی کیلئے ضلعی سطح پر نچلی سطح سے حکمت عملی تیار کی جائے، 2009 سے 2025 تک تمام ٹریڈ پالیسی فریم ورک برآمدی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2012 تک برآمدی ہدف میں 4.45 فیصد شارٹ فال ہوا، 2020 سے 2025 تک برآمدی ہدف میں شارٹ فال 43.68 فیصد تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں برآمدات جی ڈی پی کا صرف 10.4 فیصد رہیں، ہر نئے فریم ورک کیساتھ ہدف اور حقیقی برآمدات کے درمیان فرق بڑھتا گیا۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی برآمدات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئیں، مالی سال 2025 میں درآمدات جی ڈی پی کا17.21 فیصد رہیں، مالی سال 2025 میں تجارتی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق برآمدی کارکردگی میں کمزوری کے اثرات ملکی بیرونی کھاتوں پر بھی نمایاں ہیں، درآمدی طلب میں اضافہ برآمدی استعداد سے مسلسل زیادہ رہا، پیداواری لاگت میں اضافہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی میں بڑی رکاوٹ ہے۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق معاشی نمو کے نتیجے میں درآمدی طلب میں اضافہ برآمدی استعداد سے زیادہ تیز رہا، معاشی توسیع کے ادوار میں بھی بیرونی عدم توازن پیدا ہوتا رہا۔