امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی گنجائش اب بھی ہے: امریکی تجزیہ کار

—فائل فوٹو

ریپبلکن اسٹریٹجسٹ اور سابق وائٹ ہاؤس و قومی سلامتی کے عہدیدار مارک فائفل کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اب بھی معاہدے کے لیے آمادہ ہیں۔

عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک فائفل نے کہا ہے کہ سفارت کاری میں بعض اوقات یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ مذاکرات کی میز سے کون سی شرائط ہٹا دی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے امریکا سے مذاکرات کے مطالبات دہراتے ہوئے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور حملے روکنے کی شرائط برقرار رکھیں، تاہم جنگی ہرجانے اور تعمیرِ نو کے لیے رقم کے مطالبات کا ذکر نہیں کیا۔

مارک فائفل کے مطابق یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ سخت بیانات کے باوجود ایران پر امریکا کی جانب سے جاری دباؤ کے کچھ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق آئندہ ہفتوں میں مذاکرات کے لیے گنجائش تلاش کر رہے ہیں۔