قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کے لیے خودمختاری کا احترام کریں۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر اکنامک فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے کشیدگی میں اضافے سے متعلق خبردار کیا ہے۔
شیخ محمد نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات کو ’زلزلہ‘ قرار دیا ہے، جس کے جھٹکے مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
قطری وزیرِ اعظم کے مطابق بحران کے دوران تقریباً ہر گفتگو کا آغاز سلامتی اور کشیدگی میں کمی سے ہوا، جس کے بعد توانائی کی فراہمی، بحری راستوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات ہوئی۔
انہوں نے کہا ہے کہ مستقل سلامتی ایسے انتظامات کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتی جن میں کسی ریاست کو مستقل طور پر عدم تحفظ کا سامنا رہے، کشیدگی کی وجوہات کو حل کر کے اعتماد سازی کرنا ہو گی۔
قطری وزیرِ اعظم نے آئندہ 5 برس کے دوران ملکی انفرااسٹرکچر پر 38 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا اور قطر کی معاشی مضبوطی کا اظہار کرنا ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔