کینٹربری کے آرچ بشپ کو القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی تعریف کرنیوالے پاکستانی مسلمان عالم دین علامہ طاہر اشرفی کو نائن الیون کی برسی پر دیا گیا متنازع ایوارڈ واپس لینے پر مجبور کردیا۔
موسٹ ریو سارہ ملالی نے علامہ طاہر اشرفی کو مفاہمتی اور بین المذاہب تعاون کا انعام اس دن برسی کے موقع پر پیش کیا جب دنیا میں امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کو 25 سال مکمل ہوئے۔
انہیں اس وقت شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں اسلامی اسکالرز طاہر اشرفی کے گروپ نے القاعدہ کے سربراہ کو اپنا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا تھا۔
دعویٰ کیا گیا کہ طاہر اشرفی نے مبینہ طور پر جون 2007 میں برطانوی حکومت کی جانب سے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے کے فیصلے کے بعد بیان دیا تھا کہ ہم اسامہ بن لادن کو سیف اللّٰہ کا خطاب دیتے ہوئے خوش ہیں۔
یہ ایک مسلمان جنگجو کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے اگر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے باوجود مغرب کسی گستاخ کو ”سر“ کا خطاب دے سکتا ہے تو روسیوں، امریکیوں اور انگریزوں کے خلاف اسلام کے لیے لڑنیوالے مجاہد کو اسلام کا بلند پایہ لقب سیف اللّٰہ دینا چاہیے۔