امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو ٹرین مارچ شروع ہو گا ہم 23 اور 24 ستمبر کو اسلام آباد پہنچ جائیں گے، ہم ہاتھ لگانے نہیں ریلیف لینے آ رہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو کوئی ریلیف دینے کو تیار نہیں، تیل کی قیمت جو عالمی مارکیٹ میں کم ہوئی اسے پاکستان میں کم نہیں کیا گیا، حکومت نے مجرمانہ کام یہ کیا کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل منہگا تھا تو انہوں نے مزید کمانا شروع کر دیا اور اس کا سارا کا سارا اثر پاکستان کی صنعت اور عوام پر پڑا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ فروری میں ایران پر امریکی حملے کے فوری بعد ریفائنریوں سے بات کرنا چاہیے تھی، بھارت، بنگلا دیش، چین میں ریفائرنریز سے بات کر کے لوگوں کو ریلیف پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ حکومت جو پیکیج دے رہی ہے وہ ناکافی ہے، اکثریت کو سبسٹڈی نہیں مل رہی، حکومت نے مشکل حالات میں بھی لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کے ایشوز ان بڑی پارٹیوں کے ایشوز نہیں ہیں، پاکستان کے عوام کے خلاف بڑی سیاسی جماعتوں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کا اتحاد ہے، جبکہ ہمارا پی ٹی آئی والوں سے بھی رابطہ ہے انہوں نے ہمیں سپورٹ کیا، ہم ان کے احتجاج کو سپورٹ کرتے ییں اور تحریکِ انصاف اور کسانوں نے جماعتِ اسلامی اور ہم نے ان کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آئی ایم ایف کہتا ہے کہ جاگیر داروں پر ٹیکس لگائیں تو یہ نہیں لگاتے، بلکہ غریب کسانوں پر ٹیکس لگاتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ چھوٹی گاڑیاں زیادہ تر مڈل کلاس لوگ استعمال کرتے ہیں، ڈیزل سے معاشی پہیہ چلتا ہے اس میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخواہ دار طبقے سے 700 ارب روپے سے زائد ٹیکس لیا گیا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ لیوی کم کرتے تو سب کو ریلیف مل جاتا، ہماری حکومت نے ٹارگٹ سے بھی زیادہ لیوی اکٹھی کر لی ہے، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ لیوی ختم کرو۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے سود کم کر نے سمیت 6 نکات پیش کیے ہیں، آئین میں سود ختم کرنے کا کہہ کر سود کو جاری رکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، سود کو پہلے مرحلے پر 9 فیصد تک لایا جائے، اگر یہ 3 فیصد سود کم کر دیں تو لیوی لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی جبکہ 1 فیصد سود کم کرنے سے 594 ارب روپے کی بچت ہو گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے طلبہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ ہم چاہتے ہیں ان کا ٹیسٹ ہو،کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، ہم راستے بند نہیں کریں گے، 20 ستمبر کو یہاں کچھ نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں، مکہ مکرمہ پر حملہ قابلِ مذمت ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے احتجاج کا مذاق اڑانے والے بھی اب حکومتی ظلم پر سنجیدہ ہو گئے ہیں، جماعتِ اسلامی کے لانگ مارچ کے اخراجات جماعتِ اسلامی خود برداشت کر رہی ہے۔