بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انکار ناقابلِ فہم ہے: شیری رحمٰن

شیری رحمٰن— فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انکار ناقابلِ فہم ہے۔

روسی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ سرحد پار پانی کی تقسیم کے لیے ایک اہم عالمی مثال ہے، سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم، معلومات کے تبادلے اور تنازعات کے حل کا واضح نظام دیتا ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یک طرفہ معطلی یا اسے غیر فعال قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں، معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل یا نظر انداز کرنا سنگین قانونی سوالات پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہر کا طریقہ کار تنازعات کے حل کے دو الگ راستے ہیں، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لے رہا ہے۔

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ہم تنازع کا پُرامن حل چاہتے ہیں، پانی کسی نئے تنازع کا سبب نہیں بننا چاہیے، پاکستان جنوبی ایشیاء سے آگے علاقائی استحکام میں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، پاکستان تنازع کے بجائے باہمی مفاد اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔