تشدد کا کیس، 16 بچوں کی ماں کا صحتِ جرم سے انکار

— تصویر بشکریہ امریکی میڈیا

امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والی 16 بچوں کی ماں نے عدالت میں اپنے ہی بچوں پر بدترین تشدد کے مقدمے میں صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق جج نے خاتون کے فرار ہونے کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے اس کی ضمانت کی رقم 2 لاکھ 50 ہزار ڈالرز سے بڑھا کر 5 لاکھ 50 ہزار ڈالرز کر دی۔

امریکی میڈیا کے مطابق خاتون کے 16 بچوں کو ایک گھر سے بازیاب کرایا گیا تھا جہاں وہ مبینہ طور پر انتہائی ابتر حالات میں رہ رہے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جولائی میں کیس کی تفتیش کرنےوالے اہلکاروں نے بتایا تھا کہ انہیں ہیمڈن میں ایک گھر کے اندر سے انتہائی ابتر حالات میں بچے ملے تھے جن کی عمریں 17 ماہ سے لے کر 18 سال کے درمیان تھیں۔

عدالت میں پیشی کے دوران خاتون اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی اور اس نے اپنے خلاف عائد الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق 34 سالہ الزبتھ سائڈرز پر بچوں کے جنسی استحصال کے 4 اور بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے 19 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ جج کے سامنے مسلسل اپنے پیٹ کو ڈھانپتی اور اسے تھامے ہوئے دکھائی دی جس سے ایک مرتبہ پھر اس کے حاملہ ہونے کا شبہ بھی ہوا۔

امریکی میڈیا نے خاتون کے خلاف عائد الزامات اور ان کے دوبارہ حاملہ ہونے کے حوالے سے ان کے وکیل تھامس اسٹولی سے گفتگو بھی کی۔

خاتون کے وکیل نے بتایا کہ الزبتھ نامی خاتون کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران زیادہ تر حاملہ رہی، وہ کبھی بھی زچگی کے بعد کے معمول کے دورانیے (postpartum period) سے مکمل طور پر نہیں گزری اور خاتون کو بہتر طبی نگہداشت بھی نہیں ملی جو 16 یا 18 بچوں کی ماں بننے والی خاتون کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق خاتون اور اس کے شوہر پر 2022ء میں ایک بچے کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا الزام بھی ہے تاہم یہ متاثرہ بچہ ان 16 بچوں میں شامل نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس الزام کے وقت بچہ خاتون اور اس کے شوہر کی تحویل میں تھا، ملزمہ کے شوہر گیری سائڈرز نے بھی اپنے خلاف عائد الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔