امریکی حملے کا مطلوبہ ہدف اسکول تھا، اتفاقی طور پر نشانہ نہیں بنا: اقوامِ متحدہ تحقیقاتی مشن

— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ تحقیقاتی مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے 28 فروری کو ایران میں کیے گئے 2 فضائی حملوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں جنوبی شہر میناب کے ایک اسکول پر کیا گیا حملہ بھی شامل ہے۔

گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں امریکا اور ایران جنگ کے پہلے روز 2 امریکی فضائی حملوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں بچوں سمیت 178 شہری شہید ہوئے تھے، ان حملوں میں میناب کے اسکول پر بمباری بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملے کا مطلوبہ ہدف اسکول تھا اور اسے محض اتفاقی طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایران میں امریکی جنگی جرائم سے متعلق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کئی دہائیوں سے غیر سنجیدہ باتیں کرنے کے سوا انسانی حقوق کے لیے کچھ نہیں کیا، اس تنازع میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والی واحد فریق ایرانی حکومت ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اب تک اسکول پر ہونے والے حملے کی کوئی ذمے داری تسلیم نہیں کی اور نہ ہی اس واقعے سے متعلق پینٹاگون کی تحقیقات جاری کی ہیں۔