صحت مند اور متوازن جسم برقرار رکھنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ آپ کیا کھاتے ہیں، بلکہ سائنس دان اس بات پر بھی بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں کہ آپ کب کھاتے ہیں۔
تحقیق کے بڑھتے ہوئے شواہد سے پتہ چلتا ہے دن کے آغاز میں زیادہ تر کیلوریز استعمال کرنا وزن کم کرنے کے عمل کو تیز اور بلڈ پریشر کم کر سکتا ہے، آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرا ہوا محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
گزشتہ سال سلووینیا کے سائنس دانوں نے پتہ لگایا کہ صبح 8 سے شام 4 بجے تک کھانے کے اوقات محدود کرنے سے تین ماہ کے دوران تقریباً 10 پاؤنڈ وزن کم ہوا۔ ساتھ ہی جسم میں چربی کم اور خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر محض اسلیے ہے کہ کم وقت میں کھانے کی وجہ سے لوگ مجموعی طور پر کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی فائدہ صرف اتنا ہی ہے؟
برطانیہ کی معروف ماہر غذائیات صوفی میڈلن کے مطابق کھانے کے اوقات پر غور کرنے کی ایک معقول وجہ موجود ہے اور یہ صرف ان لوگوں کے لیے اہم نہیں جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جسم کی خوراک کو استعمال کرنے کی صلاحیت ہماری روزمرہ کی روٹین کے ساتھ تعامل پر منحصر ہوتی ہے، یعنی ہم کس وقت جاگتے، کس وقت سوتے اور کب ورزش کرتے ہیں؟
انھوں نے ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے لیے بہترین اوقات کے بارے میں کہا اگر آپ اضافی وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اسنیکس کھانے کے لیے کون سا وقت سب سے نامناسب ہو سکتا ہے۔
صوفی میڈلن کے مطابق اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ دن کے ابتدائی حصے میں اپنی کیلوریز کا زیادہ حصہ استعمال کرنے سے وزن اور دل کی صحت کے حوالے سے کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
شاید اس موضوع پر سب سے جامع تحقیق 2024 کی ایک میٹا اینالیسس ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ دن کے پہلے حصے میں زیادہ کیلوریز استعمال کرنے اور مخصوص اوقات تک محدود ہو کر کھانے سے وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے، اگرچہ یہ کمی نسبتاً معمولی تھی۔
صوفی میڈلن کے مطابق ہمارا جسم تقریباً 24 گھنٹے کے سرکاڈین ردعمل کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ ردعمل اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ ہمارا جسم خون میں موجود شوگر کو توانائی میں تبدیل کرنے اور خوراک ہضم کرنے میں کتنا مؤثر ہے، نیز یہ ہماری بھوک سے متعلق ہارمونز کی سطح کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
عام طور پر جسم دن کے اس حصے میں، جب ہم سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں، خوراک میں موجود شکر کو توانائی میں تبدیل کرنے میں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ کیلوریز جل سکتی ہیں۔ اسلیے جلدی کھانے سے جسمانی سرگرمی اور حرکت کے ذریعے توانائی کو استعمال کرنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔
2022 میں ہارورڈ کی ایک تحقیق میں 16 ایسے بالغ افراد کو شامل کیا گیا جن کا وزن زیادہ یا وہ موٹاپے کا شکار تھے۔ ان افراد نے پہلے دو ہفتوں تک دن کے ابتدائی حصے میں کھانے کا معمول اپنایا اور پھر ان کے کھانے کا وقت چار گھنٹے آگے کر دیا گیا، جبکہ دونوں صورتوں میں ان کی روزانہ کیلوریز کی مقدار یکساں رہی۔
جلدی کھانے والے افراد جاگنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اوسطاً صبح 8 بجے پہلا کھانا کھاتے۔ اس کے برعکس دیر سے کھانے والے تقریباً پانچ گھنٹے بعد کھانا شروع کرتے تھے۔ بعض افراد کا پہلا کھانا دوپہر 12 تک بھی مؤخر ہو جاتا تھا۔
ابتدائی شیڈول پر کھانے والے افراد تقریباً شام 4:30 بجے رات کا کھانا کھاتے، جبکہ دیر سے کھانے والے افراد تقریباً رات 8:30 بجے کھاتے تھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ دیر سے کھانے والے افراد کے خون میں بھوک سے وابستہ ہارمونز کی سطح نمایاں طور پر زیادہ جبکہ ایسے مرکبات کی سطح کم تھی جو پیٹ بھرنے اور سیر ہونے کے ردعمل میں جسم سے خارج ہوتے ہیں۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دیر سے کھانے سے آنتوں میں ایسی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں جو بھوک بڑھاتی ہیں جس وزن بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔