امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے اسرائیل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ 2.8 ارب ڈالرز کے اسلحہ پیکیج کو روکنے کا عزم ظاہر کر دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد کے دوران امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے فوجی کارروائیوں کی مالی معاونت کیوں کی جا رہی ہے؟
وان ہولن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 2.8 ارب ڈالرز کے بم ایک ایسی حکومت کو بھیج رہی ہے جس کی قیادت ایک مطلوب جنگی مجرم کر رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایک طرف نیتن یاہو غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب ان امریکی شہریوں کے لیے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں جو ان کی نگرانی میں ہلاک ہوئے، یہ امریکا فرسٹ کیسے ہے؟
امریکی سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ قانون ساز اس اسلحہ پیکیج کو روکنے کے لیے کام کریں گے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالرز کا اسلحہ بیچنے کی منظوری دی ہے، ان امریکی ہتھیاروں میں تقریباً 1 ٹن وزنی 40 ہزار بم بھی شامل ہوں گے۔
یہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فروخت کی جانے والی سب سے بڑی اسلحے کی کھیپ میں سے ایک ہے۔