اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض حادثات کا رونما ہونا ناگزیر ہے، اس لیے اے آئی صنعت کو ہر واقعے سے تیزی سے سیکھنے کا نظام قائم کرنا چاہیے۔
سیلز فورس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیم آلٹمین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو امریکی وفاقی ایوی ایشن انتظامیہ اور قومی نقل و حمل سلامتی بورڈ کی طرز پر حادثات کی رپورٹنگ اور مکمل تحقیقات کا نظام اپنانا چاہیے۔
ان کے مطابق ایوی ایشن کے شعبے میں ہر حادثے کی تحقیقات کر کے حاصل ہونے والے اسباق کو دوبارہ نظام میں شامل کیا گیا جس سے حفاظتی معیار بہتر ہوا۔
سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ حادثات رونما ہوں گے تاہم ضروری ہے کہ ہر واقعے سے زیادہ سے زیادہ سبق حاصل کر کے فوری اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ سیم الٹمین کا یہ بیان مصنوعی ذہانت کی سرکردہ کمپنیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کاکسن نے بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خود کو بہتر بنانے والی انتہائی طاقت ور مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل ہیں اور انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے تحفظ کے ماہرین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی انسانی نگرانی سے بچنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے یا سائبر اور حیاتیاتی حملوں کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔
سیم آلٹمین نے ان خدشات کو مسترد کرنے کے بجائے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر قابو کھونے سے متعلق حادثات اور طاقت کا چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہونا حقیقی خدشات ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ تحفظ، نگرانی اور انسانی اقدار سے ہم آہنگی کے اقدامات بھی آگے رہنے چاہئیں اور اگر کوئی ادارہ یہ توازن برقرار نہ رکھ سکے تو اسے اپنی پیش رفت سست کر دینی چاہیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی سے متعلق محققین اور ماہرین کے یہ تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئیں کہ جب ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت ضابطوں کے بجائے چین کے مقابلے میں امریکی برتری کو ترجیح دے رہی ہے۔
صدارتی مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈیوڈ سیکس نے آلٹمین اور اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار محدود رکھنے کی اپیل کے جواب میں کہا ہے کہ کمپنیوں کو آگے بڑھنا چاہیے، اپنے فیصلے خود لینے چاہئیں اور یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ انہیں کسی اور کی اجازت درکار ہے۔