وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کے سرکاری جہاز کے استعمال کو خواہ مخواہ ایشو بنایا جارہا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں رانا ثناء اور پی ٹی آئی کے بیرسٹر عمیر نیازی نے شرکت کی، اس موقع پرمریم نواز کے دفاع میں ن لیگی سینیٹر اپنے ہی وفاقی وزیر احسن اقبال کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مریم نواز کے سرکاری جہاز کو استعمال کرنے کے معاملے کو خواہ مخواہ ایشو بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق وہ اپنی جیب سے سرکاری جہاز کا خرچہ دے کر اسے استعمال کرسکتی ہیں۔
دوران پروگرام راناثناء اللّٰہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کچھ ارکان حکومت کے ساتھ خاموش ملاقاتیں کررہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ اسلام آباد جائیں گے اور حکومت گرائیں گے، بتایا جائے کیا حکومت کو درخواست پیش کریں گے کہ آپ گر جائیں؟
ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ حکومت گرائیں گے اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کریں گے، بتایا جائے کہ کیا سہیل آفریدی اڈیالہ جیل جاکر ضمانت کی درخواست دائر کریں گے یا کیسز میں اپیل کی پیروی کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ یہ جس مقصد کے لیے آرہے ہیں اور جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ تشدد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، اسی مقصد کےلیے سندھ میں اور لاہور میں یہ مارے مارے پھرے ہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوجائے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہو جو افراتفری کا انتشار کا باعث بنے، جتھے میں یہ خیبر پختونخوا سے لوگ لائیں گے کیونکہ پنجاب سے بہت کم توقع ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ خود کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی وافر تعداد پائی جاتی ہے، جو صوبے اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کرتے ہیں، یہ کارروائیاں ملک توڑنے اور حکومت گرانے کےلیے ہوتی ہیں۔
ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ وہاں سے جلوس اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی تیاری میں ہوں تو دہشت گرد کیوں شامل نہیں ہوں گے؟ سہیل آفریدی کے گرد عوام کا ہجوم نہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سہیل آفریدی کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور دل بھی بہلا رہے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی سیاسی سوجھ بوجھ ہے تو لانگ مارچ نہیں کرنا چاہیے۔
راناثناء اللّٰہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم کی طرف سے خط لکھا جاچکا ہے، اب اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس نہیں جانا کسی اور مقام پر ملاقات کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاوس کیا کسی کی ذاتی جائیداد ہے وہ ریاست کا آفس ہے وہاں یہ جانے سے انکاری ہیں، ایک اور جگہ پر ایک ملاقات ہونے کی خبر میرے پاس بھی ہے۔
ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ وہاں پی ٹی آئی کے ایک لیڈر نے کہا کہ استخارہ کیا ہے وہاں جانا ٹھیک نہیں، یہ کسی نہ کسی بہانے سے مذاکرات اور معاملہ سلجھانے سے انکاری ہیں یا مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی سے ملاقات کی ہے ان کی بڑی قدر ہے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں، پی ٹی آئی کی طرف سے ملاقات کرنے والے نام لینے کی اجازت نہیں دیتے، وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا نام لیں گے تو سوشل میڈیا پر ہماری بے عزتی اور گالم گلوچ کی ہوگی، پی ٹی آئی میں ایسے لوگ موجود ہے جو 27 ستمبر کی ٹینشن نہیں چاہتے۔