مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہی ہے: سربراہ چینی خفیہ ایجنسی

چینی وزیرِ مملکت برائے سلامتی چن یی شن —فائل فوٹو

چینی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور بیرونی طاقتیں ٹیکنالوجی کو سماجی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

چین کے وزیرِ مملکت برائے سلامتی چن یی شن نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ دشمن قوتیں مصنوعی ذہانت کی تخلیقی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال کرتے ہوئے سیاسی افواہیں گھڑنے اور نقصان دہ معلومات پھیلانے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دشمن قوتیں چین کے خلاف رائے عامہ کی جنگ اور ادراکی جنگ چھیڑ رہی ہیں، جو براہِ راست ہماری سیاسی سلامتی، ادارہ جاتی سلامتی اور نظریاتی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

چن یی شن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب عالمی تکنیکی مسابقت کا مرکزی میدان اور بڑی طاقتوں کے درمیان تزویراتی مسابقت کا ایک نیا محاذ بن چکی ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت سے لاحق وجودی خطرات یا ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار پر قدغن لگانے کا ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے اینتھروپک کے کلاڈ مائتھوس اور اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی 5.5 سائبر چین کے اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

چن یی شن نے کہا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ادارے ذہین ویب کرالرز، ذہین ڈیٹا مائننگ اور ذہین پروفائلنگ تجزیے جیسی ٹیکنالوجیز کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے اہم قومی ڈیٹا، تجارتی راز اور شہریوں کی نجی معلومات سمیت حساس معلومات وسیع پیمانے پر جمع اور حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کی جنگ نے بھی فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے کلیدی کردار کو واضح کر دیا ہے، جبکہ بہتر ٹیکنالوجی میدانِ جنگ میں برتری فراہم کر رہی ہے۔

چن یی شن نے لکھا ہے کہ چین کو اپنی تکنیکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اہم بنیادی ٹیکنالوجیز پر خود مختار کنٹرول یقینی بنانا ہو گا، جس میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے ناگزیر جدید کمپیوٹر چپس بھی شامل ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ رواں ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

توقع ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور اس کے محفوظ استعمال کا معاملہ بھی شامل ہو گا، جبکہ اس ٹیکنالوجی کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں نے بھی مصنوعی ذہانت کی پیش رفت کی رفتار کم کرنے پر زور دیا ہے۔