امیگریشن پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کو 1 ہی روز 2 قانونی جھٹکے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ—فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امیگریشن پالیسی کے حوالے سے 2 بڑے قانونی دھچکے لگے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو ایک ہی روز 2 اہم قانونی محاذوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پہلا یہ کہ وفاقی عدالت نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزوں کی مدت محدود کرنے کی حکومتی تجویز روک دی ہے، دوسرا یہ کہ 22 ریاستوں اور ضلع کولمبیا نے تارکینِ وطن افراد کے مستقل رہائشی اجازت نامے سے متعلق نئی پابندی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق بوسٹن کی وفاقی عدالت کے جج ایف ڈینس سیلر چہارم نے انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی مدت مقرر کرنے کے فیصلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے، یہ اقدام منگل سے نافذ ہونا تھا۔

حکومتی تجویز کے تحت غیر ملکی طلبہ کے لیے ایف ویزا اور ثقافتی تبادلے کے پروگرام میں شریک افراد کے لیے جے ویزا کی مدت زیادہ سے زیادہ 4 سال مقرر کی جانی تھی جبکہ صحافیوں کے لیے آئی ویزا کی مدت 240 دن تک محدود کرنے کی تجویز تھی۔

جج نے قومی سلامتی اور ویزا نظام میں جعل سازی روکنے کے حکومتی جواز کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت کروڑوں محققین اور ماہرین نے امریکا میں تحقیق اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے نئی پابندیوں کے اثرات اعلیٰ تعلیم اور امریکی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

ان پابندیوں سے تقریباً 1.6 ملین غیر ملکی طلبہ اور 500,000 تبادلہ پروگرام کے شرکاء متاثر ہو سکتے تھے۔

دوسری جانب نیویارک، کیلیفورنیا اور الینوائے کی قیادت میں 22 ریاستوں اور ضلع کولمبیا نے ایک اور حکومتی ضابطے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

اس ضابطے کے تحت امیگریشن حکام ان تارکینِ وطن افراد کو مستقل رہائشی اجازت نامہ دینے سے انکار کر سکتے ہیں جو قانونی طور پر حکومتی فلاحی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کے تحت خوراک اور علاج سمیت غیر نقد سرکاری سہولتوں کے استعمال کو بھی مستقل رہائش کے فیصلے میں مدِ نظر رکھا جائے گا جبکہ درخواست گزار کے خاندان کے افراد کو ملنے والی سہولتیں بھی جانچ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے کانگریس کے اختیار سے تجاوز کیا ہے، کیونکہ مستقل رہائش کے قانونی معیار طے کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔

ریاستوں کے مطابق خوراک کی امداد اور سرکاری طبی سہولتوں جیسی قانونی مراعات استعمال کرنے والے افراد کو سزا دینا وفاقی قوانین کے خلاف ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی کہا ہے کہ نئی پالیسی تارکینِ وطن افراد کے خاندانوں کو ان سہولتوں سے دور کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے لوگوں کو خوراک اور صحت کی بنیادی ضروریات فراہم کی ہیں۔