چین کے سرکاری میڈیا نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل پر امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے کے بیان کو منافقانہ اور دور اندیشی سے عاری قرار دے دیا۔
اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی نے ہفتے کے روز ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں جدید مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیشِ نظر اس کی رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی۔
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بھی جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظام کی صلاحیتوں میں اضافے کی رفتار کم کرنے کی حمایت کی ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی منفی قوتیں خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مصنوعی ذہانت میں چین سے آگے ہے اور وہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے جبکہ مصنوعی ذہانت میں جو ملک کامیاب ہو گا، وہی سبقت حاصل کرے گا۔
چین کے سرکاری حمایت یافتہ اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں اینتھروپک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے حفاظتی خطرات کے نام پر چین کے خلاف ’سرد جنگ‘ کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
چینی اداریے کے مطابق ڈیریو اموڈے کے مضمون کا اصل مقصد چین کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کو تکنیکی رکاوٹوں اور ضابطہ جاتی اجارہ داری کے ذریعے محدود کرنا، جدید ترین ٹیکنالوجی میں واشنگٹن کی اجارہ داری برقرار رکھنا اور چین کو عالمی مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کے نظام سے باہر رکھنا ہے۔
گلوبل ٹائمز نے اسے ’خاموش مصنوعی ذہانت کی سرد جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل منافقانہ اور دور اندیشی سے عاری ہے۔
چینی اخبار نے کہا کہ چین کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدت سے باہر رکھنے کی کوئی بھی کوشش عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ترقی میں آزمائش و تجربے کی لاگت اور قابو سے باہر ہونے کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل اب صرف ایک حفاظتی معاملہ نہیں رہا بلکہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اور تکنیکی مسابقت کا حصہ بن گیا ہے۔
ستمبر میں متوقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی اہم ملاقات میں جدید ترین مصنوعی ذہانت سے وابستہ حفاظتی خطرات بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
ادھر اینتھروپک کے 2 محققین کی جانب سے تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت سے مستقبل قریب میں انسانی بقا کو لاحق ممکنہ خطرات سے متعلق تشویشناک انتباہات کے بعد امریکی قانون ساز مصنوعی ذہانت کے نظام کی نگرانی کے لیے نئی قانون سازی پر زور دے رہے ہیں۔
ڈیریو اموڈے نے وضاحت کی ہے کہ میں مصنوعی ذہانت کی تربیت یا تکنیکی ترقی کو مکمل طور پر منجمد کرنے کا حامی نہیں ہوں۔
انہوں نے 3 نکاتی نظام بھی تجویز کیا ہے جس کے تحت اینتھروپک جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں مستقل بنیادوں پر تیسرے فریق کے جائزہ کار تعینات کرے گی جنہیں متعلقہ آلات اور اندرونی خطرات کے جائزے کے عمل تک رسائی حاصل ہو گی۔