ہیموگلوبن نارمل ہونے کے باوجود تھکن کیوں؟ طبی ماہر نے ’فریٹن‘ ٹیسٹ کی اہمیت بتادی

علامتی فوٹو

عام طور پر جب لوگ شدید تھکن، غنودگی یا بالوں کے گرنے کی شکایت لے کر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ہیموگلوبن کا بلڈ ٹیسٹ کروایا جاتا ہے، لیکن ہیلتھ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ صرف ہیموگلوبن کی نارمل رپورٹ سے جسم میں آئرن کی صحیح صورتحال کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

فریٹن ایک قسم کا پروٹین ہے جو جسم کے خلیات میں آئرن کو ذخیرہ رکھتا ہے۔ جب جسم میں آئرن کی کمی ہوتی ہے تو ہیموگلوبن گرنے سے بہت پہلے فریٹن کا ذخیرہ خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اسکی کمی کی خاموش علامات یہ ہیں کہ بلاوجہ مسلسل تھکن، سستی، سکن کا زرد یا بےرونق ہونا، بالوں کا حد سے زیادہ گرنا اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری فریٹن کے کم ہونے کی بنیادی علامات ہیں۔

صرف آئرن والی غذا یا گولیاں کھانا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جسم اسے جذب کر پا رہا ہے یا نہیں؟

آئرن کے بہتر جذب کے لیے وٹامن سی اور کاپر/پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو کھانے سے کم از کم ایک گھنٹہ دور رکھیں تاکہ آئرن کے جذب میں رکاوٹ نہ بنے۔ نیز، بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے آئرن سپلیمنٹس خود سے شروع کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔